اسلام آباد: وزیر مملکت خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے، برآمدی صلاحیت بڑھانے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت کا کردار کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا نہیں بلکہ نجی شعبے کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق سیالکوٹ ملکی برآمدات میں اہم مقام رکھتا ہے اور اس کی برآمدی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک سالانہ آمدن والے کاروباروں کیلئے سپر ٹیکس ختم جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے کاروباروں کیلئے اس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔
وزیر مملکت کے مطابق برآمد کنندگان پر مجموعی ٹیکس کٹوتی 2.25 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کردی گئی ہے جبکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا 0.25 فیصد سرچارج بھی ختم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت یوٹیلائزیشن کی مدت 9 ماہ سے بڑھا کر 18 ماہ کردی گئی ہے، جبکہ مزید 6 ماہ کی توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اس طرح مجموعی مدت دو سال تک ہوسکتی ہے۔
بلال اظہر کیانی نے مزید کہا کہ برآمد کنندگان کے مسائل کے فوری حل کیلئے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور کسی برآمد کنندہ کے خلاف آڈٹ شروع کرنے سے قبل متعلقہ کمیٹی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتی بجلی کے نرخوں میں مزید کمی کیلئے کوششیں کر رہی ہے، جبکہ نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھایا جارہا ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری مکمل ہوچکی ہے جبکہ تین ڈسکوز کی نجکاری پر کام جاری ہے۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ حکومت ٹی ڈی اے پی میں بھی اصلاحات کررہی ہے تاکہ اسے برآمد کنندگان کیلئے ون اسٹاپ شاپ بنایا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے روہڑی ریلوے سیکشن کیلئے فنانسنگ کا انتظام کرلیا گیا ہے اور منصوبے پر تکنیکی کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے دکانداروں کی مشاورت سے آسان ٹیکس اسکیم بھی متعارف کراچکی ہے، جس کے تحت سالانہ ٹرن اوور ظاہر کرنے پر ایک فیصد فائنل ٹیکس عائد ہوگا۔