اسلام آباد: وفاقی حکومت کا نجکاری پروگرام سست روی کا شکار ہوگیا ہے۔
پانچ سالہ نجکاری پروگرام کے دو سال مکمل ہونے کے باوجود حکومت پہلے مرحلے کے ایک سال کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پہلے مرحلے کے ایک سال میں 10 اداروں کی نجکاری کے ہدف کے مقابلے میں اب تک صرف دو اداروں کی نجکاری ہوسکی ہے۔
پنجاب میں مریضوں کے لئے ” اے آئی پاورڈ اسیکنر” متعارف کرانے کا فیصلہ
پہلے مرحلے کے ایک سال کے لیے 10 اداروں کو نجکاری کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تاہم دو سال گزرنے کے باوجود حکومت صرف دو اداروں، فرسٹ ویمن بینک اور پی آئی اے، کی نجکاری کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے، جس کے باعث وفاقی حکومت کے بڑے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کو دھچکا لگا ہے۔
وفاقی حکومت نے اگست 2024 میں 5 سالہ نجکاری پروگرام 2024 سے 2029 تک منظور کیا تھا۔ ابتدائی منصوبے کے تحت تین مراحل میں 24 اداروں کو نجکاری کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔