اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن کے پہلے پارلیمانی اجلاس میں جدوجہد کو قانون سازی تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پارلیمانی اجلاس قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر اپوزیشن ارکان نے شرکت کی۔
مالی سال کے پہلے ماہ 76 کروڑ30 لاکھ ڈالر کے غیرملکی قرضے لیے گئے
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مہنگائی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال، نئے صوبوں کے قیام، عدلیہ، معیشت، دہشت گردی، سیاسی قیدیوں اور دیگر اہم قومی امور پر پارلیمنٹ کے اندر متفقہ اور مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
متحدہ اپوزیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں صوبوں کی تقسیم کا وقت نہیں، اس سے عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ گھٹن کے ماحول میں اپوزیشن ارکان کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا خوش آئند ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مل کر آگے بڑھیں گی۔