بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی فورس سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے جواب جمع کراتے ہوئے رہائی فورس کے وجود کی تردید کردی۔
وفاقی آئینی عدالت میں بانی پی ٹی آئی رہائی فورس سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایڈووکیٹ جنرل کے ذریعے 8 صفحات پر مشتمل جواب جمع کرایا۔
سندھ میں ایچ آئی وی کے 4 بڑے آؤٹ بریکس، سیکڑوں بچے متاثر
سہیل آفریدی کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کبھی قائم ہی نہیں ہوئی، تاہم اصل اقدام بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک ہے، جو پُرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ نوعیت کی ہے، جبکہ اس میں کسی مسلح ڈھانچے یا نجی ملیشیا کا کوئی وجود نہیں ہے۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ آئینی درخواست سیاسی مقاصد اور غلط بیانی پر مبنی ہے، جبکہ یہ درخواست قبل از وقت، فرضی اور ناقابلِ سماعت ہے۔ درخواست گزار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مؤقف اختیار کیا کہ رہائی امن تحریک کو آئین کے تحت تحفظ حاصل ہے اور اس کا مقصد پُرامن سرگرمیوں کے ذریعے مطالبات کا اظہار کرنا ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آئینی درخواست کو ابتدائی مرحلے پر خارج کیا جائے اور بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئینی و قانونی قرار دیا جائے۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کی تشکیل سے متعلق درخواست پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے جواب طلب کیا تھا، جبکہ کیس کی سماعت 29 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔