(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک): وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جوڈیشل ٹاور منصوبے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم اپنے بعد آنے والوں کے لیے ایک بڑا ورثہ چھوڑ کر جائیں گی، جبکہ صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ نے بھی چیف جسٹس کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم لاہور بار پہنچیں تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس سید شہباز شرضوہ بھی موجود تھے۔
شادی کا فیصلہ میرا تھا، اس معاملے میں کسی کو الزام نہیں دے سکتی: میرا سیٹھی
چیف جسٹس نے لاہور بار ایسوسی ایشن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ماتحت عدالتوں کی سولرائزیشن، ای لائبریری اور لیڈیز بار روم کا افتتاح بھی کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ نے کہا کہ جسٹس عالیہ نیلم نے بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ دو برس کے دوران تاریخی اقدامات کیے، جس کے بعد انہوں نے جوڈیشل ٹاور کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کی اور منصوبے کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھا۔
تقریب میں جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شہباز رضوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، ممبر جوڈیشل کمیشن احسن بھون، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی، صدر لاہور بار عرفان حیات باجوہ سمیت ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججز شریک ہوئے۔
جوڈیشل ٹاور کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب کو وزیراعلیٰ کے ساتھ پہلی خاتون چیف جسٹس بھی ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کبھی اپنے ججز کی مراعات یا رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کی بات نہیں کی بلکہ ان کی تمام توجہ سائلین اور وکلا کی سہولت پر مرکوز رہی۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے منصوبے کی تکمیل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے لیے احسن بھون اور منیر بھٹی ایڈووکیٹ پر تنقید بھی کی گئی، لیکن آج اللہ تعالیٰ نے انہیں سرخرو کیا۔
ممبر جوڈیشل کمیشن احسن بھون نے کہا کہ جوڈیشل ٹاور وکلا کا دیرینہ مطالبہ تھا، جسے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ذاتی کوششوں سے منظور کرایا، تاہم اس کا اصل کریڈٹ چیف جسٹس عالیہ نیلم کو جاتا ہے۔
وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے کہا کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے حقیقی معنوں میں وکلا کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
سیشن جج لاہور طارق خورشید نے کہا کہ آج کا دن لاہور کی عدالتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اپنی روایتی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر کام کر رہی ہے اور انصاف کی بروقت اور باوقار فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے انتظامی سطح پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
لاہور میں 24 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا جوڈیشل ٹاور منصوبہ 30 ماہ میں مکمل کیا جائے گا، جس میں 184 عدالتیں، بار رومز، ریکارڈ رومز اور جدید پارکنگ پلازہ سمیت دیگر سہولیات قائم کی جائیں گی۔
تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، ممبر جوڈیشل کمیشن احسن بھون، صدر لاہور بار عرفان حیات باجوہ سمیت دیگر ججز اور وکلا نمائندوں میں خصوصی شیلڈز اور قرآن پاک بھی تقسیم کیے گئے۔