چور فلمی انداز سے ایک میوزیم سے ہزاروں سال پرانے کروڑوں روپے مالیت کا خزانہ چرا کر لے گئے
یورپی ملک اسپین میں چوروں نے فلمی انداز میں ایک میوزیم پر دھاوا بول کر قدیم عہد کا قیمتی خزانہ صرف چند منٹوں میں چوری کرلیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔
یہ واقعہ اسپین کے قصبے Villena میں پیش آیا، جہاں ایک ہزار قبل مسیح کے دور سے تعلق رکھنے والا خزانہ 1963 میں ایک خشک ہو جانے والے دریا سے دریافت کیا گیا تھا۔
ہزاروں سال قبل ایک کشتی یہ خزانہ لے جاتے ہوئے ڈوب گئی تھی، جس میں سونے کے بریسلیٹ، 11 ڈونگے، 3 بوتلیں اور دیگر قیمتی اشیا شامل تھیں۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایرانی حکام کو حوصلہ شکن بیانات سے گریز کرنے کی ہدایت
مئی 2024 سے یہ تاریخی خزانہ قصبے میں قائم کیے جانے والے نئے Villena میوزیم میں رکھا گیا تھا۔
تاہم 27 اگست 2026 کو چند چوروں نے میوزیم پر دھاوا بول دیا اور صرف 4 منٹ کے اندر خزانے میں موجود 66 طلائی اشیا چوری کرکے فرار ہوگئے۔
مقامی حکام کے مطابق میوزیم کا الارم صبح 5 بج کر 20 منٹ پر بجنا شروع ہوا، جبکہ چور صبح 5 بج کر 24 منٹ تک وہاں سے فرار ہوچکے تھے۔
حکام نے بتایا کہ چوروں نے انتہائی تیزی اور پروفیشنل انداز میں واردات مکمل کی۔
قصبے کے میئر Fulgencio Cerdán نے بتایا کہ چور خزانے کا بیشتر حصہ اپنے ساتھ لے گئے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ اشیا وہیں چھوڑ گئے تھے۔
میئر کا کہنا تھا کہ ہم اس چوری سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ یہ خزانہ ہماری تاریخ اور ثقافت کا اہم حصہ تھا۔
خزانے کی تاریخی اہمیت کے باعث اس کی مجموعی مالیت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، تاہم صرف اس میں موجود سونے کی مالیت 17 لاکھ یورو، یعنی 54 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔
میوزیم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ میوزیم میں نصب تمام سکیورٹی سسٹمز درست طور پر کام کر رہے تھے اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اکتوبر 2025 میں بھی چوروں نے دن دہاڑے پیرس کے مشہور لوور میوزیم سے 8 منٹ سے بھی کم وقت میں کروڑوں یورو مالیت کے زیورات چوری کرلیے تھے۔