(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک) : ذرائع وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے جبکہ سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح 2.5 فیصد ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت 2025 تک آبادی میں اضافے کی شرح کو 1.5 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم یہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔
کیا ذیابیطس کے مریض آم کھا سکتے ہیں؟
منصوبے کے تحت 2030 تک آبادی میں اضافے کی شرح کو مزید کم کرکے 1.1 فیصد تک لانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ 2030 تک فی خاتون اوسط بچوں کی تعداد 2.2 تک محدود کرنے کا ہدف بھی شامل ہے۔
ذرائع وزارت صحت کے مطابق مانع حمل ادویات اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی عدم دستیابی اہداف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
آبادی میں اضافے پر قابو پانے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کو مزید مؤثر اور وسیع بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 2030 تک مانع حمل ذرائع کے استعمال کی شرح 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔