صوبائی دارالحکومت میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سکیم کے تحت 30 ہزار بے زمین اور مستحق خاندانوں کو قابلِ کاشت سرکاری زرعی اراضی الاٹ کرنے کے لیے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کر دی۔
اس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر ایک لاکھ 21 ہزار ایکڑ اراضی 20 سال کے لیے محض 100 روپے سالانہ فی ایکڑ کی علامتی لیز پر فراہم کی جائے گی، جبکہ ہر ایکڑ کے لیے 50 ہزار روپے مالی معاونت اور کاشتکاری کے لیے تکنیکی مدد بھی دی جائے گی۔
مریم نواز نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے فیصل آباد کے عبدالستار سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ اب وہ اگلے 20 سال کے لیے اپنی زمین کے مالک و مختار ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ چار ایکڑ زمین کے ساتھ زمین کی تیاری کے لیے دو لاکھ روپے بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ کسان کسی کے محتاج نہ رہیں۔
آزاد کشمیر انتخابات، امیدواروں کی حتمی فہرست جاری، کتنے امیدوار میدان میں ہیں؟
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ سکیم کا آغاز 22 اپریل کو کیا گیا تھا، جس کے لیے 60 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ 29 ہزار لاٹس کی قرعہ اندازی مکمل کر لی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 11 ہزار خواتین نے بھی درخواستیں جمع کرائیں۔ تمام درخواست گزاروں کو ذاتی سماعت اور اپیل کا موقع فراہم کیا گیا، جبکہ ایک ہفتے کے اندر الاٹمنٹ لیٹرز اور 31 جولائی تک اراضی کا قبضہ دینے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سکیم کا مقصد بے زمین اور انتہائی مستحق خاندانوں کو معاشی خودمختاری دینا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا اور کسانوں کی عزتِ نفس بحال کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جن خاندانوں کی اپنی زرعی زمین نہیں، صرف انہی کو میرٹ کی بنیاد پر اراضی دی گئی ہے اور اس عمل میں کسی سفارش یا سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ پنجاب میں جہاں بھی قابلِ کاشت سرکاری زمین دستیاب ہو گی، اسے مرحلہ وار مزید مستحق خاندانوں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بے زمین کسان اس پروگرام سے مستفید ہو سکیں۔
مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ 20 سال کے لیے زرعی زمین کاشت کے لیے دی جا رہی ہے اور آج سے یہ زمین آپ کی ملکیت میں آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک محاورہ ہے، "جو بوئے گا وہی کھائے گا”، اور یہ قرعہ اندازی 100 فیصد میرٹ پر کی گئی ہے۔