Gas Leakage Web ad 1

سلامتی کونسل بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

0

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا مکتوب سلامتی کونسل کی صدر لیونور زالباتا ٹوریس کے حوالے کیا ہے، جس میں سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کے اقدامات پاکستان کے آبی تحفظ، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکا ایران مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خط میں سلامتی کونسل کی توجہ دریائے چناب کے نظام سے متعلق بھارت کے دو مبینہ غیرقانونی انفراسٹرکچر منصوبوں کی جانب مبذول کرائی گئی ہے، جن کے بارے میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد پانی کے بہاؤ کو موڑنا ہے۔

پاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کے یہ اقدامات سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے بہاؤ اور استعمال میں یکطرفہ تبدیلی کی کوشش ہیں، اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہیں، جس کے آبی، غذائی اور معاشی سلامتی سمیت علاقائی امن پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مراسلے میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت کو مبینہ خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔

عاصم افتخار کے مطابق خط میں سلامتی کونسل کی صدر کو جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال اور مسئلہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بھی اسحاق ڈار اپریل میں سلامتی کونسل کی صدر کو خط لکھ چکے ہیں جس میں انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر توجہ دلائی تھی۔

خیال رہے کہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ کے نظام میں پانی کی تقسیم کا فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے تحت مشرقی دریا بھارت جبکہ مغربی دریا زیادہ تر پاکستان کے حصے میں آتے ہیں۔

یہ معاہدہ طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون کی بنیاد سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس پر تنازعات اور دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جون 2025 میں پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا، جبکہ ایک اور ضمنی فیصلے میں مغربی دریاؤں پر پانی کے استعمال سے متعلق حدود کی وضاحت بھی کی گئی تھی۔

پاکستان نے حالیہ پیش رفتوں اور بھارت کے بعض مجوزہ منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں معاہدے اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.