Gas Leakage Web ad 1

پنجاب بھر میں لاپتہ تمام خواتین کو پندرہ روز میں بازیاب کروانے کی مہلت

0

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چار سال قبل مبینہ طور پر لاپتا ہونے والی لڑکی کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران ڈپٹی انسپکٹر جنرل انویسٹی گیشن پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔

Gas Leakage Web ad 2

سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب پولیس کے تمام افسران کو لاپتا خواتین کی بازیابی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کی جائے۔

مریم نواز کا بچوں کی کردار سازی میں والدین کی قربانیوں کو خراجِ تحسین

پولیس رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۲۱ سے اپریل ۲۰۲۶ تک صوبے بھر میں تین ہزار دو سو باون خواتین کے لاپتا ہونے کے مقدمات درج ہوئے، جن میں سے ایک ہزار چار سو پانچ خواتین کو بازیاب کروا لیا گیا جبکہ ایک ہزار آٹھ سو ترپن خواتین تاحال لاپتا ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ باقی لاپتا خواتین کی بازیابی کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا۔ اس پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل انویسٹی گیشن نے دو ماہ کی مہلت طلب کی، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھ سال پہلے وقت دیا گیا تھا، کیا وہ کم تھا؟ یہ پولیس ادارے کی نااہلی ہے۔

عدالت نے بازیاب کرائی گئی خواتین کے تحفظ سے متعلق بھی سوال کیا، جس پر پولیس حکام نے بتایا کہ زیادہ تر بازیاب ہونے والی خواتین اپنے گھروں کو واپس جا چکی ہیں یا پسند کی شادی کر چکی ہیں، اور تقریباً اسی فیصد کیسز اسی نوعیت کے ہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو خواتین تاحال لاپتا ہیں ان کے حالات کے بارے میں کوئی واضح معلومات موجود نہیں، اور یہ ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے کیسز کے لیے کوئی مؤثر ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام موجود ہے، جس پر پولیس حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ لاپتا خواتین کے کیسز کے لیے باقاعدہ اور مؤثر نظام بنایا جائے تاکہ تحقیقات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

یہ سماعت سلمیٰ بی بی کی درخواست پر ہوئی، جنہوں نے اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.