Gas Leakage Web ad 1

وزیر اعلیٰ پنجاب کا اضلاع کو خودمختار بنانے کا فیصلہ، ترقیاتی منصوبے شروع

0

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت کمشنرز کے اہم اجلاس میں پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلانز کا جائزہ لیا گیا جبکہ ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژنز کے کمشنرز نے دستیاب وسائل اور مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

Gas Leakage Web ad 2

مریم نواز شریف نے اجلاس میں واضح کیا کہ ”آئی واش نہیں، گراؤنڈ ورک چاہیے“۔ انہوں نے کہا کہ کمشنرز اب صرف ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں نہیں بلکہ فیلڈ میں نظر آنے چاہئیں، اور اگر اختیار انتظامیہ کے پاس ہے تو ذمہ داری بھی اسی کی ہوگی، جبکہ عوام کو حقیقی ریلیف ملنا چاہیے۔

اے این ایف کی تعلیمی اداروں کے اطراف سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن، 7 ملزمان گرفتار

فیصل آباد ڈویژن میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے کھلے گڑھے میں تین سالہ بچی کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر وزیراعلیٰ نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ اگر کوئی شہری مین ہول میں گرا تو متعلقہ سوسائٹی مالکان کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے ہر ماہ کھلے مین ہولز نہ ہونے کا بیان حلفی لینے اور صوبے بھر کی سوسائٹیز کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعلیٰ نے سرکاری و نجی اسکولوں کی عمارتوں پر خصوصی نظر رکھنے، تمام کنسٹرکشن سائٹس کو ایس او پیز کے مطابق کارڈن آف کرنے اور تمام تحصیلوں میں ڈیپ کلیننگ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ افسران بہتر کام کر رہے ہیں لیکن کچھ نے صرف ”آئی واش“ بنایا ہوا ہے اور زمین پر مطلوبہ کام نظر نہیں آ رہا۔

ساہیوال ڈویژن کے لیے لوکل گورنمنٹ کے 4 ارب روپے کے فنڈز کی موجودگی سے متعلق بریفنگ دی گئی جبکہ شہر اور گردونواح میں 1.12 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 862 ملین روپے کی لاگت سے 18.8 کلومیٹر طویل 10 اہم سڑکیں تعمیر کی جائیں گی اور ستمبر 2026 تک ساہیوال کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔

فارم ٹو مارکیٹ روڈز، فرید ٹاؤن روڈ کی اپ گریڈیشن، شیر دل چوک سے سمندری روڈ، ہڑپہ روڈ، گرلز کالج روڈ اور چیچہ وطنی میں مختلف سڑکوں کی تعمیر بھی منصوبے میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے ساہیوال میں عالمی معیار کی سڑکیں بنانے، فٹ پاتھ لازمی تعمیر کرنے، تجاوزات کے خاتمے اور خوبصورت انٹری پوائنٹس بنانے کی ہدایت کی۔

اوکاڑہ میں پپلی پہاڑ روڈ کی اپ گریڈیشن، گوگیرا سے ٹھٹھہ سرانگ تک سڑک کی تعمیر، اکبر روڈ پر سولر اسٹریٹ لائٹس اور جناح اسٹیڈیم میں فلڈ لائٹس لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکپتن میں 5 شہری، 5 دیہی اور 4 بیوٹیفکیشن اسکیموں کی منظوری دی گئی جبکہ ناردرن و سدرن بائی پاس، ملکہ ہانس روڈ، کرکٹ اسٹیڈیم، اسپورٹس ایرینا اور نہر کنارے سولر لائٹس کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ساہیوال ڈویژن کی تمام 17 اسکیمیں ستمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔

سرگودھا ڈویژن کے لیے 2.8 ارب روپے سے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ شاہ پور لک موڑ روڈ، بھیرہ کی بیوٹیفکیشن، سیال موڑ موٹروے انٹری پوائنٹ کی خوبصورتی، سرگودھا یونیورسٹی روڈ پر پیڈسٹرین برج اور سیف سٹی کیمروں کی تنصیب تیز کرنے کی ہدایت دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی تک رسائی بہتر بنانے، رحمان پورہ روڈ اپ گریڈیشن، قائد آباد میں فیملی پارک اور بس اسٹینڈ، دریا خان میں لیڈیز پارک، کڈز ایریا اور بس اسٹیشن بنانے کے منصوبے بھی منظور کیے۔ سرگودھا ڈویژن کی تمام اسکیمیں 30 ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

فیصل آباد ڈویژن کے پاس 5.3 ارب روپے کے مقامی وسائل موجود ہونے کی بریفنگ دی گئی، جہاں 81 کلومیٹر طویل 38 سڑکوں سمیت مجموعی طور پر 59 اسکیموں پر کام ہوگا۔ جھنگ روڈ بائی پاس کی اپ گریڈیشن، اینڈ ٹو اینڈ پیومنٹ، ڈجکوٹ تا تاندلیانوالہ روڈ کی تعمیر نو، سمال انڈسٹریل اسٹیٹ کی بہتری، جڑانوالہ ستیانہ لنک روڈ پر فٹ پاتھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور گوجرہ میں جدید سڑکیں، چنیوٹ میں 7 سڑکوں کی بہتری اور بیوٹیفکیشن جبکہ جھنگ روڈ پر اسٹریٹ لائٹس لگائی جائیں گی۔

ملتان ڈویژن کے چار اضلاع میں 3 ارب روپے سے 28 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔ ملتان میں گھنٹہ گھر سے چونگی نمبر 9 اور ڈیرہ اڈہ سے عزیز ہوٹل تک سڑکوں کی اینڈ ٹو اینڈ اپ گریڈیشن، عسکری بائی پاس اولڈ شجاع آباد روڈ کی ڈبلنگ، فوارہ چوک سے گرلز ڈگری کالج اور پرمٹ روڈ کی بہتری، پل رنگو سے پل برکت آباد تک سڑک کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔

کبیر والا جنرل بس اسٹینڈ، تلمبہ میونسپل کمیٹی آفس، وہاڑی میں رتا ٹبہ روڈ، بورے والا میں معصوم شاہ روڈ، میلسی جلا جیم اسپورٹس اسٹیڈیم، لودھراں میں سپر چوک اور گیٹ کی تعمیر، کہروڑ پکا میں اسٹریٹ لائٹس اور قاسم پارک اپ گریڈیشن جبکہ دنیا پور میں جدید اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ پنجاب بھر میں ترقیاتی کاموں کا معیار یکساں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنرز حکومت کی آنکھیں، کان اور بازو ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کی سفارش یا اقربا پروری نہیں چلے گی، صرف میرٹ پر کام ہوگا اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.