اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریپریزنٹیشن پر آئندہ سماعت سے قبل سپیکنگ آرڈر جاری کریں۔ عدالت نے اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 6 مئی کو ہونے والی اگلی سماعت میں ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے اس پورے معاملے پر تفصیلی جواب بھی طلب کر لیا ہے۔
فنی خرابی دور، دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کے اجرا کی سروس بحال
درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں استدعا کی گئی ہے کہ بشریٰ بی بی کو ان کی فیملی سے فوری ملاقات کی اجازت دی جائے اور ہفتے میں کم از کم ایک ملاقات کا شیڈول طے کیا جائے۔ درخواست میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کے ذاتی معالج کو ان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے اور انہیں کپڑوں سمیت دیگر تمام ضروری اشیاء فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے دائر اس درخواست کا مقصد جیل میں بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی اور اہل خانہ کے ساتھ رابطے کو یقینی بنانا ہے، جس پر عدالت نے فوری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان سہولیات کے حصول کے لیے پہلے ہی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ریپریزنٹیشن دی جا چکی ہے، لیکن جیل انتظامیہ کی جانب سے اس پر اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا جواب جمع کرائیں تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ کیس کی مزید سماعت اب 6 مئی کے لیے مقرر کی گئی ہے، جس میں جیل حکام کی جانب سے پیش کیے جانے والے سپیکنگ آرڈر اور جواب کی روشنی میں عدالت اپنا اگلا فیصلہ سنائے گی۔