کافی کو دنیا بھر میں ایک مقبول ترین مشروب کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس کے صحت بخش فوائد بھی تسلیم شدہ ہیں، تاہم حال ہی میں آئرلینڈ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ کافی پینے کی عادت انسانی معدے اور دماغ کے درمیان موجود تعلق میں اہم تبدیلیاں لاتی ہے۔ کورک یونیورسٹی کالج کی اس مطالعہ میں پہلی بار اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کافی کس طرح معدے کے بیکٹیریا پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور یہ عمل انسانی مزاج اور ذہنی تناؤ پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے محققین نے 31 کافی پینے کے عادی افراد اور اس مشروب سے دور رہنے والے 31 افراد کی غذائی عادات، کیفین کے استعمال اور جسمانی نمونوں کا باریک بینی سے تجزیہ کیا تاکہ ان کے معدے کے بیکٹیریا اور جذباتی حالت کے درمیان ربط کو سمجھا جا سکے۔
بشریٰ بی بی سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کا کیس، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کل عدالت طلب
تحقیق کے اگلے مرحلے میں کافی پینے کے عادی افراد کو دو ہفتوں تک اس مشروب سے دور رکھا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے معدے میں موجود بیکٹیریا کی ساخت بدل گئی اور ان کے مزاج پر منفی اثرات ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم جب ان افراد نے دوبارہ کافی کا استعمال شروع کیا تو ان کے مزاج میں خوشگوار تبدیلی دیکھی گئی اور تناؤ، ڈپریشن اور اضطراب جیسی کیفیات میں واضح کمی واقع ہوئی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ کافی براہِ راست ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ سائنسدانوں نے اس دوران معدے میں موجود Eggertella sp اور Cryptobacterium curtum نامی مخصوص بیکٹیریا کی شناخت بھی کی جو ہاضمے اور جگر کے افعال کو درست رکھنے کے ساتھ ساتھ جسم کو انفیکشنز سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس مطالعہ کی ایک اور اہم دریافت یہ تھی کہ کافی پینے سے انسان کے سیکھنے کی صلاحیت اور یادداشت میں بھی بہتری آتی ہے، جس کے نتائج معتبر طبی جریدے ‘نیچر کمیونیکیشنز’ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس سے قبل دسمبر 2024 میں پرتگال کی کوئمبرا یونیورسٹی کی ایک وسیع تحقیق میں یہ بتایا گیا تھا کہ روزانہ کافی پینا انسانی عمر میں اوسطاً 1.8 سال کا اضافہ کر سکتا ہے کیونکہ یہ دل، پھیپھڑوں، فالج، ذیابیطس اور کینسر کی مخصوص اقسام سمیت کئی مہلک امراض کا خطرہ کم کرتی ہے۔ ‘ایجنگ ریسرچ ریویوز’ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق کافی نہ صرف مسلز اور مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے بلکہ ڈیمینشیا جیسے دماغی امراض سے تحفظ فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔