اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے یوٹیوبر رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے اس حوالے سے چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار کا نام فوری طور پر اس فہرست سے خارج کیا جائے، بشرطیکہ ان کے خلاف کوئی اور قانونی رکاوٹ یا کسی دوسری مجاز عدالت کا حکم موجود نہ ہو۔ اس فیصلے کے ذریعے رجب بٹ کو بیرون ملک سفر کی اجازت دینے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے اور انتظامیہ کو عدالتی احکامات پر فی الفور عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔
دنیا کا وہ ملک جہاں اے آئی کو جواز بناکر ملازمین کو فارغ کرنا غیر قانونی قرار دیدیا گیا
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں کسی بھی شہری کا نام شامل کرنے کا اختیار لامحدود نہیں ہے اور اسے ہمیشہ منصفانہ اور قانونی طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ہائیکورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی فرد کا نام پی سی ایل میں شامل کرنے سے اس کی آزادانہ نقل و حرکت کا بنیادی آئینی حق براہ راست متاثر ہوتا ہے، لہذا ایسی کارروائی صرف ناگزیر حالات میں ہی کی جانی چاہیے۔ عدالت کے مطابق شہریوں کی آزادی پر قدغن لگانے کے لیے انتظامیہ کے پاس ٹھوس قانونی جواز کا ہونا ضروری ہے تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکا جا سکے۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پی سی ایل میں نام رکھنے کا اصل مقصد صرف اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ متعلقہ فرد تفتیشی اداروں یا عدالت کے سامنے اپنی حاضری یقینی بنائے، لیکن جب یہ مقصد حاصل ہو جائے تو ایسی پابندی کو برقرار رکھنا غیر ضروری ہو جاتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی فرد کی موجودگی سے متعلق قانونی تقاضے پورے ہو رہے ہوں تو اس پر سفری پابندی جاری رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانونی طریقہ کار کی تکمیل کے بعد شہریوں کے بنیادی حقوق کی بحالی عدالتی ذمہ داری ہے۔