گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے بتایا ہے کہ بحری جہاز ایم وی شو لانگ، جس میں 16 ہزار 77 میٹرک ٹن کارگو موجود ہے، خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر گوادر کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہ پر جہاز کی برتھنگ اور کارگو ہینڈلنگ کا عمل انتہائی تیزی کے ساتھ جاری ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گوادر اب متبادل تجارتی راستوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ وزیر کے مطابق صرف اپریل کے مہینے میں گوادر بندرگاہ پر 4 ٹرانس شپمنٹ جہازوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو اس بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی فعالیت کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر بحری امور نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی بحری صورتحال نے گوادر کی اسٹریٹجک اہمیت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ بندرگاہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں ایک ناگزیر مرکز بن کر ابھری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر عالمی تجارت کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد مرکز کے طور پر دنیا بھر کے تاجروں اور جہاز رانی کی کمپنیوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے بندرگاہی ڈھانچے میں کی جانے والی بہتری اور جدید سہولیات کی فراہمی اس تجارتی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
جنید انوار چوہدری نے مزید کہا کہ گوادر کی بندرگاہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ یہاں سے کارگو کی ترسیل کے عمل میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی بحری نقشے پر گوادر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل قریب میں یہ بندرگاہ ٹرانس شپمنٹ اور عالمی سپلائی چین کا ایک بڑا سنگ میل بن جائے گی۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بحری امور کی وزارت گوادر کو دنیا کی بہترین بندرگاہوں کے ہم پلہ لانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔