سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کا اجلاس آج سینیٹر روبینہ قائمخانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں سینیٹر دوست علی جیسَر نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان بیت المال (PBM) کے انتظامی اور پالیسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
چیئرپرسن نے 10 اکتوبر 2025 کو جاری کردہ اور 16 اپریل 2026 کو دہرائی گئی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ تاحال عملدرآمد رپورٹس جمع نہیں کرائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی پالیسی سازی کرتی ہے جبکہ متعلقہ ادارہ اس پر عملدرآمد کا ذمہ دار ہوتا ہے، اور منیجنگ ڈائریکٹر بطور سینیٹر زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں۔
سیکرٹری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بیت المال میں مختلف ادوار میں بھرتی کیے گئے تقریباً 5 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رائٹ سائزنگ کی ہدایت موصول ہوئی ہے، جس کے تحت بورڈ کی منظوری کے بعد 60 فیصد آسامیوں کو غیر فعال یا ختم قرار دے دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے ترقیوں میں تاخیر ہوئی، تاہم رائٹ سائزنگ مکمل ہونے کے بعد جلد ترقیوں کا عمل شروع کیا جائے گا جس کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنرل کیڈر میں عملہ زیادہ ہے، لہٰذا ان کے کیریئر کے مواقع بھی وسیع ہونے چاہئیں، جبکہ انتظامی، آئی ٹی اور میڈیکل شعبہ جات کی علیحدگی ضروری ہے، تاہم جہاں ضرورت ہے وہاں قواعد پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
شہباز شریف سے یونیسیف وفد کی ملاقات، بچوں کے محفوظ مستقبل بارے گفتگو
سینیٹر دوست علی جیسَر نے زائد ملازمین کو مالی بوجھ قرار دیتے ہوئے انتظامی ڈھانچے اور قواعد کے نفاذ سے متعلق نکات اٹھائے۔
کمیٹی نے 191 غیر قانونی ترقیوں کے کیسز کا جائزہ لیا اور انہیں بدستور کالعدم (void ab initio) قرار دیا۔ مسٹر کاشف ندیم اور مسٹر بلال انور کے کیسز بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے غیر قانونی فوائد کی وصولی کی ہدایت کی گئی۔ مسٹر ظفر خان صفدر کے حوالے سے ان کی غیر قانونی بحالی منسوخ کرنے، تنخواہوں کی وصولی اور معاملہ ایف آئی اے اور نیب کو بھجوانے کی ہدایت دی گئی۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ 41 افسران کو 12 سے 22 سال تک ترقی نہیں دی گئی حالانکہ 52 آسامیاں خالی ہیں، جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ کمیٹی نے مکمل واجبات کے ساتھ ترقیوں کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی اور شفاف ترقیاتی عمل مکمل ہونے تک نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
خریداری کے معاملات پر منیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ 6 کروڑ روپے مالیت کی سلائی مشینوں سے متعلق انکوائری مکمل ہو چکی ہے، 40 افراد کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور 15 دن کے اندر حتمی کارروائی مکمل کر لی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال پر 33 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی ذمہ داری بدستور عائد ہے جبکہ پبلک منی ایکٹ 2001 کے تحت ریکوری پلان تاحال التواء کا شکار ہے۔
مسٹر رضوان احمد کی جعلی ڈگری، جس کی تصدیق ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کی، کے حوالے سے کمیٹی نے ان کی تقرری کو کالعدم قرار دینے، ایف آئی اے کو ریفرنس بھیجنے اور نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ منیجنگ ڈائریکٹر نے آگاہ کیا کہ اس معاملے پر جلد کارروائی کی جائے گی کیونکہ انہیں حال ہی میں انکوائری موصول ہوئی ہے۔
کمیٹی نے فائلوں کے ضیاع سے بچاؤ کے لیے ای-فائلنگ سسٹم کے نفاذ پر بھی غور کیا اور ویمن ایمپاورمنٹ سینٹرز پر بریفنگ طلب کی۔
چیئرپرسن نے اختتام پر واضح کیا کہ 10 اکتوبر 2025 اور 16 اپریل 2026 کی ہدایات بدستور مؤثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں معاملات براہ راست نیب، ایف آئی اے، آڈیٹر جنرل، وزیر اعظم اور چیئرمین سینیٹ کو بھجوائے جائیں گے، اور مزید کسی توسیع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اجلاس میں سیکرٹری وزارت تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔