وفد کی قیادت پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ پرنیل آئرنسائیڈ کر رہی تھیں جبکہ سیسے سے پاک مستقبل کے سیکرٹریٹ کے ڈائریکٹر عبداللہ فاضل، سٹینفورڈ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن سے جینا فارسیتھ اور تھامس ہرڈ بھی وفد میں شامل تھے۔
ملاقات میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مصطفیٰ کمال اور عائشہ رضا فاروق سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ حکومت قوم کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان انسداد پولیو کو اولین ترجیح سمجھتا ہے اور انشاء اللہ جلد اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیسے (Lead) کے اثرات کے باعث بچوں میں ذہنی اور جسمانی نشوونما کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جس کا سدباب ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
کَیس لاہور کے سیمینار میں فضائی طاقت، ڈرون جنگ اور جدید تنازعات کی بدلتی نوعیت پر ماہرین کی گفتگو
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سیسے کے اثرات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
وفد کے شرکاء نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے حالیہ دورے کے دوران کیے گئے سروے کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
وفد کے ارکان نے وزیراعظم سے گفتگو میں کہا کہ ان کی قیادت میں بچوں کو پولیو سمیت موذی امراض سے محفوظ بنانے کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کی بیماریوں سے بچاؤ اور ان کی نشوونما کے لیے خطرات کے سدباب کے اقدامات دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔
شرکاء نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت پاکستان صحت، تعلیم، نوجوانوں کی تربیت اور آئی ٹی کے شعبوں میں گراں قدر اقدامات کر رہی ہے۔ وفد نے وزیراعظم کو سیسے کے صحت پر نقصان دہ اثرات کے حوالے سے بریفنگ دی اور پاکستان میں اس کے پھیلاؤ والے علاقوں کی نشاندہی بھی کی۔
وفد کے شرکاء نے عوام میں سیسے کے نقصانات کے بارے میں آگاہی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔