اسلام آباد میں "کوئی بچہ پیچھے نہ رہے” مہم کے تحت ہونے والی پیش رفت کے ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے اسکول سے باہر بچوں کو داخل کرنے کے لیے جاری "کارپٹ کوریج” مہم کے سلسلے میں چند روزہ فیلڈ ورک کے بعد وفاقی دارالحکومت کی مختلف یونین کونسلز میں اب تک مجموعی طور پر 3,646 بچوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
یوکرین کے سعودی عرب اور قطر سے دفاعی معاہدے طے، یو اے ای سے بات چیت جاری
نان فارمل ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسکول سے باہر شناخت کیے گئے بچوں میں 1,862 لڑکے شامل ہیں جو کہ 51 فیصد بنتے ہیں، جبکہ 1,784 لڑکیاں ہیں جو 49 فیصد کے برابر ہیں۔ یہ تمام بچے اس وقت "نشاندہی شدہ مگر تاحال غیر داخل شدہ” زمرے میں آتے ہیں، اور انہیں جلد از جلد تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
گھر گھر سروے اور بچوں کی نشاندہی کے عمل میں مختلف اداروں نے حصہ لیا، جن میں نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ نے 2,877 بچوں کی نشاندہی کی، جے جے ٹی نے 433، نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے 157، بی سی سی ایس نے 85، مسلم ہینڈز نے 78 جبکہ سن بیمز نے 37 بچوں کی شناخت کی۔
وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کے مطابق یہ پیش رفت تین سالہ رولنگ پلان کا حصہ ہے، جس کے پہلے مرحلے میں 25,000 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اولین ترجیح فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے اداروں میں ان بچوں کا داخلہ یقینی بنانا ہے، جبکہ جہاں سرکاری اسکول دستیاب نہیں ہیں وہاں کمیونٹی اسکولز کے ذریعے انہیں تعلیم دی جائے گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے غیر سرکاری شراکتی اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ بھی تعاون جاری رکھا جائے گا۔