راولپنڈی: پاکستان کی مسلح افواج نے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران افغانستان میں موجود دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے منسلک عناصر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
جاری کردہ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 684 دہشت گرد ہلاک جبکہ 912 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 252 عسکری چوکیاں تباہ کر دی گئیں جبکہ 44 چوکیاں قبضے میں لے کر تباہ کی گئیں۔
زیادہ چکنائی والی غذا دماغ پر ایک غیر متوقع اثر ڈال سکتی ہے: تحقیق
رپورٹ کے مطابق کارروائیوں کے دوران 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ بھی تباہ کیا گیا۔ مزید برآں افغانستان کے مختلف علاقوں میں 73 دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے قندھار میں ایک ایسی ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور آلات ذخیرہ گاہ کو بھی تباہ کیا جو افغان طالبان اور دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ اسی علاقے میں ایک سرنگ بھی تباہ کی گئی جس میں دہشت گردوں کا تکنیکی سامان رکھا گیا تھا۔
اسی طرح چترال سیکٹر میں افغان علاقے کی بادینی پوسٹ پر موجود دہشت گردوں کے جمپ آف پوائنٹ کو زمینی کارروائی کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کسی بھی شہری آبادی یا سول انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ حکام نے افغان حکام اور بعض میڈیا کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو روکنا اور سرحدی علاقوں میں امن کو یقینی بنانا ہے۔