Gas Leakage Web ad 1

زورین نظامانی کے سوالات اور ان کا حل!!!

زورین نظامانی کے سوالات اور ان کا حل!!!

0

زورین نظامانی کے سوالات اور ان کا حل!!!
تحریر :نوشابہ یعقوب راجہ

Gas Leakage Web ad 2

سب سے پہلے جنریشن زی کیا ہے ؟؟؟بومرز کو مخاطب کیا گیا اس کا مطلب کیا ہے؟؟؟دراصل دنیا بھر میں جنریشنز کو بہت سی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔1928 سے 1945 میں پیدا ہونے والے لوگ سائیلنٹ جنریشن کہلاتے ہیں۔1946 سے 1964 میں پیدا ہونے والی جنریشن بومرز کہلاتی ہے۔1965 سے 1980 میں پیدا ہونے والی جنریشن جین ایکس کہلاتی ہے۔1981 سے 1996 میں پیدا ہونے والے میںلینیالز کہلاتے ہیں۔1997 سے 2012 میں پیدا ہونے والی جنریشن جینزیز کہلاتے ہیں ۔2013 سے 2024 میں پیدا ہونے والی جنریشن جین الفا کہلاتی ہے۔اور 2025 سے
2039 پیدا ہونےوالی جنریشن جین بیٹا کہلائےگی۔
اب ان مختلف ادوار میں پیدا ہونے والی جنریشنز کے ادوار اور ناموں کی تقسیم سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی سوچ اور افکار کا باہم ربط مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
تعلیم کے حصول ،میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال ،دنیا کا گلوبل ویلج کی صورت سمٹنے نے دنیا کی سوچ کے زاویے کو بدل دیا ہے ۔ہر دور کے اپنے تقاضے ،مطالبے اور ترجیحات ہوتی ہیں۔ہر دور لوگ اپنے بزرگوں سے خاصے مختلف اور ایڈوانس ہوتے ہیں۔اس لیے ان کی سوچ اور ترجیحات کے مطابق والدین گھریلو زندگی میں بدلاؤ لیکر آتے ہیں اسی طرح تعلیمی ادارے ،معاشرہ، صنعت،فیشن انڈسٹری ،کلچر،میڈیا کے ساتھ ساتھ ملکی صورت حال بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔زندگی کا ہر شعبہ بدلتے زمانے کیساتھ ساتھ بدلتا ہے اور جدیدیت اختیار کرتا ہے اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وہ زمانے کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور تاریخ میں گم ہو جاتا ہے ۔
تبدیلی ،بدلاو ،جدیدیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔بالکل اسی طرح صنعت اور دفاعی شعبے میں بھی جدیدیت بنیادی اور اہم ضرورت ہے جیسے 1947 کے وقت کے قدیم اسلحہ کیساتھ آج کے پاکستان کا دفاع ناممکن ہے اور آج کے زمانے دفاعی نظام کے مطابق ملک کی بقاء اور مضبوط دفاع کے لیے ملکی دفاع کو ہم آہنگ کرنا ضروری ہے بالکل اسی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی میں بدلاؤ اور جدیدیت ضروری ہے ۔اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا زمانہ ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے ۔پاکستان کے ہر شعبے کو دفاعی شعبے کی طرح جدیدیت درکار ہے ۔اس کو تیس چالیس سال پرانے نظام کیساتھ نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ زمانہ بدل چکا ہے تین نسلیں بدل چکی ہیں۔پاکستان میں آکسفورڈ کا نصاب پڑھا کر یا انٹرنیشنل یونیورسٹیوں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اسپیشلسٹ بننے والے پی ایچ ڈی تک پہنچنے والے طالبعلوں کی ڈیمانڈ فی زمانہ ہو گی وہ دس سال آگے کی سوچیں گے نہ کہ چالیس سال پرانے نظام کی طرف جائیں گے۔اس لیے ہمیں موجودہ دور کی جنریشن کی ڈیمانڈز کو ملحوظ خاطر رکھ کر فیصلے کرنے پڑیں گے۔
کیونکہ بومرز جنریشن1946 سے 1964 تک ہے کل آبادی گیارہ فی صد ہے. اور انیس سو پینسٹھ سے لیکر انیس سو اسی تک جنریشن ایکس ہے۔جن کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ ہے۔اور یہ کل آبادی کا پانچ فی صد ہے۔
انیس سو اکیاسی سے چھیانوے والی جنریشن وائے جین وائے /جینزی اور جین الفا یہ تینوں جنریشن ملا کر 85 فی صد بنتے ہیں اور ان میں کثیر تعداد پڑھے لکھے باشعور نوجوانوں کی ہے اور وہ پرانی اور بوسیدہ سیاسی روایات کو نہیں مانتے ۔پاکستان 67فی صد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کہ بہترین نظام زندگی ،نوکری،گھر،بزنس،اور آزادانہ زندگی چاہتے ہیں ۔پاکستان کے اندرونی بنیادی مسائل اس جنریشن کی امنگوں کے مطابق حل کیے بغیر ناممکن ہیں ۔یہ جنریشن لاجک اور حکمت مانتی ہے اس کو فرسودہ پرانے نظام کیساتھ لاٹھیوں سے نہیں ہانکا جا سکتا۔اب جب یہ نوجوان ترقی یافتہ ممالک میں جاتے ہیں تو بے شمار مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں ہمارا ملک ترقی کرے اور یہ اپنے ملک میں جاکر بہترین بزنس کریں زندگی کو بہترین طریقے سے گزاریں کہاں ان کو جانی ،مالی اور عزت کا تحفظ ملے۔تو یہ خواہش مند پسند خواہش ہے بری خواہش نہیں ہے۔

زورین نظامانی نے جنریشن
زی کے سوالات اٹھائے،یعنی فائر وال کیوں لگائی؟فری لانسنگ پر پابندیاں کیوں؟اسمارٹ فون ٹیکس کیوں؟مہنگائی، کرایہ، نوکریاں کہاں؟وغیرہ وغیرہ۔یہ سوالات ہر پڑھا لکھا انسان کرتا ہے اور ہر ذی شعور انسان انسانی بنیادی حقوق ،انصاف اور آزادی مانگتا ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اختلاف رائے سہنے کی برداشت کرنے کی عادت نہیں ہے۔معاشرے کو ایسے محب الوطن اور باشعور نوجوانوں کا احسان مند ہونا چاہیے ۔جو معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور انھیں حل کرنے صلاحیت رکھتے ہیں ایک کریمنالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والا طالبعلم اپنے شعبے کا ایکسپرٹ انسان ہے اگر وہ کسی معاشرتی برائی یا کرائم کی سرجری کرتا ہے تو اسے سراہنا چاہیے اور اس کی خدمات لیکر ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا چاہیئے ۔
ایک اچھا استاد،ڈاکٹر اور پولیٹیکل ورکر اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ خود کو جدید علوم سے وقت کے تقاضوں کے مطابق آراستہ نہیں کرتا۔اسمیں جین ایکس،جینزی اور الفا کا قصور نہیں ہے بلکہ بومرز کو چاہئے کہ خود کا معیار بلند کریں ۔ماڈرن جنریشن کے مطابق خود کو لیکر آئیں اور مسائل کو حل کریں ۔بات سمجھیں آرٹیکل اڑانے سے نہیں آرٹیکل کا حل نکالنے سے مسائل حل ہوں گے۔بات سمجھیں اور سمجھائیں دلیل کیساتھ ۔مار نہیں پیار ۔محبت کا بیان ہو جا ،اخوت کی زبان ہو جا ۔امن ،آتشی،اتحاد اور اتفاق اور اختلاف رائے سہنا اور جدیدیت اپنانا ہمارے مسائل کا حل ہے۔
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے فرمایا

زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے ساز بدلے گے
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
جگر سے وہی تیر پھر پار کر
تمنا کو سینوں میں بیدار کر

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.