چکنائی والی غذا دماغی صحت پر اثر ڈال سکتی ہے، تحقیق میں انکشاف
ویب ڈیسک، 15 مارچ 2026: امریکی ریاست جورجیا کی ایموری یونیورسٹی کی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ چکنائی والی غذا دماغ پر غیر متوقع اثر ڈال سکتی ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ریمارکس مضحکہ خیز اور بلاجواز ہیں، ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی
تحقیق میں چوہوں کو زیادہ چکنائی والی غذا دی گئی، جس سے آنتوں میں بیکٹیریا کا توازن بگڑ گیا۔ اس صورتحال میں بعض بیکٹیریا آنتوں سے نکل کر ویگس نرو کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتے ہیں۔ ویگس نرو دماغ کے نچلے حصے (برین اسٹیم) کو دل، پھیپھڑوں اور معدے سے جوڑنے والا اہم اعصابی نظام ہے۔
محققین کے مطابق یہ دریافت اعصابی بیماریوں جیسے الزائمرز اور پارکنسنز کے مطالعے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دماغ میں بیکٹیریا کی کمی بھی بیماریوں سے منسلک پائی گئی۔
ایموری یونیورسٹی کے شعبہ متعدی امراض سے وابستہ ڈیوڈ ویز نے کہا کہ یہ تحقیق عندیہ دیتی ہے کہ اعصابی بیماریوں کی ابتدا ممکنہ طور پر آنتوں سے ہو سکتی ہے۔ اس دریافت سے مستقبل میں دماغی امراض کے علاج کی حکمت عملی بدل سکتی ہے، اور علاج کا نیا ہدف دماغ کے بجائے آنتیں بھی بن سکتی ہیں، جس کے حیران کن نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔