مریم ریاض وٹو نے اپنی ہمشیرہ بشریٰ بی بی کے بارے میں علی امین گنڈاپور اور خیبر پختونخوا حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ مریم ریاض نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کو ان کی مرضی کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک سے کہیں اور منتقل کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی ڈی چوک سے جانے کے لیے رضامند نہیں تھیں، لیکن انہیں زبردستی نکال دیا گیا۔
مریم ریاض وٹو نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اب وہ کہاں رکھے گئے ہیں اور ان سے فیملی کا رابطہ بھی نہیں کرایا جا رہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علی امین گنڈاپور اور خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے بشریٰ بی بی سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور ان کا فون مسلسل بند ہو رہا ہے۔
مریم ریاض نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی گمشدگی کے معاملے میں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور اس سلسلے میں جلد ہی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی فیملی سے رابطہ نہ کرانے اور انہیں انجان مقام پر رکھنے کی کارروائی سے وہ شدید پریشان ہیں۔