لسبیلہ(نمائندہ خصوصی)ہندو کمیونٹی کے سالانہ تین روزہ ہنگلاج ماتا میلے کااغاز ہوگیا ہے اور ملک بھر سے ہندویاتریوں کے قافلے ہنگلاج پہچنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے ہنگلاج آنے والے یاتریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لئے بھرپور انتظامات کئے گئے ہیں ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل وفوکل پرسن ہنگلاج ماتا فیسٹیول سید یاسین اختر نے جمعے کے روز چندرگپ اورہنگلاج مندر کا دورہ کیا۔ سیکیورٹی امور اوردیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہنگلاج ماتا مندر کے تین روزہ میلے کیلئے ہیلتھ پلان کے تحت قائم کئے گئے میڈیکل کیمپ کا دورہ کیا۔دورے کے موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر لسبیلہ اور پی پی ایچ آئ کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر انکے ہمراہ تھے۔ فوکل پرسن ہنگلاج فیسٹیول اے ڈی سی جنرل لسبیلہ سید یاسین اختر کو بتایا گیا کہ میڈیکل کیمپ میں ایمرجنسی ریسکیو سینٹر کے ترییت یافتہ عملہ اورڈاکٹرز تعینات کئے گئے۔
ہنگلاج شیوا منڈلی کمیٹی کے 100رضاکار انتظامیہ کیساتھ یاتریوں کو سہولیات فراہمی میں بھی معاونت کررہے ہیں۔اس موقع پر اے ڈی سی نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان عبداللہ خان کہ واضح ہدایات ہیں کہ ڈی ایچ او اور پی پی ایچ آئی کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر میلے کے دوران ڈاکٹرز پیرامیڈیکس کیساتھ مسلسل تین روز ہنگلاج میں موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگلاج میلے کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے وافر مقدار میں ادویات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں محکمہ صحت اور ایدھی کی ایمبولینسیں بھی موجود رہیں گی جبکہ ایمرجنسی رسپانس سینٹر کےتربیت یافتہ پیرامیڈیکس کو 24 گھنٹے کسی بھی ممکنہ ایمرجنسی کیلئے الرٹ رکھا جائے۔
اے ڈی سی جنرل لسبیلہ و فوکل پرسن ہنگلاج ماتا میلہ سید یاسین اختر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ڈی جی پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہنگلاج ماتا میلہ میں شریک یاتریوں کیلئے وافر مقدار میں راشن واٹر کولر سینیٹائزر اورضروری اشیاء فراہم کی گئی ہیں۔
لسبیلہ ویلفئیر ٹرسٹ ایدھی فاؤنڈیشن اور کوسٹل ہائیوے پولیس لسبیلہ انتظامیہ کیساتھ کوآرڈیشن میں ہیں۔
سید یاسین اخترنے میڈیا کو بتایا کہ ہنگول ندی میں سیلابی پانی آنے کی بناء پر یاتریوں کی سیفٹی کیلئے ریسکیو بوٹ ماہر تیراک اور ایمبولیبس فراہمی کیلئے ڈی جی پی ڈی ایم اے سے رابطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چندرگپ کے مقام پر یاتریوں کی سیکیورٹی اور طبی سہولیات فراہمی کیلئے ایمبولنیس بھی فراہم کی گئ ہے ہندوکمیونٹی کے لوگ مذہبی رسومات آذادانہ طریقے سے بلاخوف وخطر اداکر رہے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور انکی عبادتگاہوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔