ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے معدے، گلے، فنگل انفیکشن، درد، جوڑوں کی سوزش اور الرجی سمیت مختلف بیماریوں کی سترہ ادویات کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے
اور ان کے اٹھارہ بیچز کو جعلی قرار دیا ہے۔ پنجاب میں جعلی ادویات بنانے اور بیچنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، جن میں کئی غیر قانونی فیکٹریوں سے یہ ادویات برآمد ہوئیں، جن کے لیبلز پر مختلف شہروں کے پتے درج ہیں لیکن ان کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والا خام مال اور معیار واضح نہیں، جس سے سنگین طبی نقصانات ہو سکتے ہیں۔ ڈریپ نے ہدایت کی ہے کہ یہ ادویات فوری طور پر مارکیٹ سے ہٹائی جائیں اور میڈیکل اسٹورز و ڈسٹری بیوٹرز کسی بھی مشتبہ دوا کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔