Gas Leakage Web ad 1

صحافیوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی، امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا احتجاجاً ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ

0

واشنگٹن: تین اہم نیوز اداروں کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کے خلاف امریکی میڈیا ڈٹ گیا، امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے احتجاجاً صدر ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ کرلیا۔

Gas Leakage Web ad 2

امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے تین اہم نیوز اداروں کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کے خلاف احتجاجاً صدر ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز کی جانب سے یکجہتی کا اظہار صدر ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کا وائٹ ہاؤس میں داخلہ بند کیے جانے کے سبب کیا گیا۔
اسلام آباد: این سی سی آئی اے کی غیرقانونی کال سینٹر پر کارروائی،17 غیر ملکیوں سمیت 100 افراد زیر حراست
فاکس نیوز میڈیا، اے بی سی نیوز، سی بی ایس نیوز، این بی سی نیوز اور سی این این نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ عوام کا اہم ترین مفاد یہ ہے کہ انہیں حکومت سے متعلق درست اور آزاد معلومات حاصل ہوں۔ کسی بھی انتظامیہ کو نیوز آرگنائزیشنز کو محض اس لیے محدود نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ادارے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب وائٹ ہاؤس پول نے کہا ہے کہ آج سے ٹی وی پول صدر ٹرمپ کی پول کوریج کو کور نہیں کرے گا اور اس پول کا کوئی متبادل بھی نہیں ہوگا۔

یہ اقدام وائٹ ہاؤس کی جانب سے سی این این کو اس کی تفویض کردہ ذمہ داریوں سے روکنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ان کے داخلے کی دستاویز منسوخ کردی گئی ہیں اور انہیں عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

صدر ٹرمپ نے سی این این سمیت تین بڑے میڈیا اداروں کے نمائندوں کا وائٹ ہاؤس میں داخلہ بند کرتے ہوئے کسی خاص نیوز کی نشاندہی نہیں کی تھی۔ ساتھ ہی یہ بھی دھمکی دی تھی کہ دیگر نیوز اداروں کے صحافیوں پر بھی وائٹ ہاؤس کے دروازے بند کیے جاسکتے ہیں۔

سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے اقدام کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو بھی اپنے بیان میں ان میڈیا اداروں کے خلاف کارروائی کا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس آزاد پریس کے خلاف حملہ آور نہیں، یہ فیک نیوز پر حملہ ہے جو امریکا میں کینسر کی طرح پھیل گیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.