کراچی: قائم مقام چینی قونصل جنرل فینگ دیہنگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان ایسے اچھے ہمسائے ہیں جو پہاڑوں اور دریاؤں سے جڑے ہیں، دنیا میں کچھ بھی ہو، چین پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرے گا۔
فینگ دیہنگ نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کراچی میں چینی قونصل خانے میں منعقدہ تقریب میں گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، مختلف ممالک کے قونصل جنرلز، سیاسی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہر آزمائش میں ثابت قدم رہی ہے، جبکہ سی پیک پاکستان اور چین کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا عملی مظہر ہے۔ پاک چین تعاون اب انفرا اسٹرکچر سے آگے صنعت، ٹیکنالوجی، زراعت اور جدت تک پھیل رہا ہے اور پاک چین مضبوط دوستی خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی اہم ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سی پیک نے رابطوں، توانائی، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے ذریعے پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔ سندھ میں توانائی، بندرگاہوں، صنعت اور زراعت سمیت کئی شعبوں میں چینی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ قابل تجدید توانائی اور جدید شہری ترقی میں تعاون مزید بڑھایا جائے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت چینی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
قائم مقام چینی قونصل جنرل فینگ دیہنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان ایسے اچھے ہمسائے ہیں جو پہاڑوں اور دریاؤں سے جڑے ہیں، اچھے دوست ہیں جو اعتماد کے رشتے کے ساتھ باہمی معاونت کررہے ہیں اور ایسے بھائی ہیں جو دکھ سکھ کے سانجھی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کا سیاسی اور سکیورٹی تعاون ہے، عالمی سطح پر اشتراک ہے اور دونوں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
اس سال ہونے والے سیاسی رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے قونصل جنرل نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کامیاب دورے کیے، جن میں دونوں ملکوں کی قیادت نے پاک چین آل ویدر اسٹریٹیجک تعاون کو بڑھانے کے لیے روڈ میپ اور بنیادی رہنمائی فراہم کی۔ چین کا عزم ہے کہ وہ دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان مشترکہ مفاہمت کو عملی جامہ پہنائے، کمیونٹی سطح پر رابطے بڑھائے اور عالمی منظرنامے کی بے یقینیوں کا جواب چین پاکستان تعلقات کی یقینی سے دے۔
ایف بی آر افسران کو آمدن، اثاثہ جات ڈیکلیئریشن ڈیجیٹائزیشن کے احکامات جاری
پاکستان کی معاشی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے فینگ دیہنگ نے کہا کہ چین کو یہ دیکھ کر خوشی ہے کہ قومی ترقی کے عمل میں پاکستانی عوام نئی کامیابیاں حاصل کررہے ہیں اور پاکستان کی میکرواکنامک صورتحال مستحکم ہوئی ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بارے میں فینگ دیہنگ نے کہا کہ اپ گریڈڈ سی پیک ٹو پوائنٹ او کی تعمیر کے عمل میں تیزی لائی جارہی ہے۔ ثقافتی روابط مضبوط ہورہے ہیں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے چین کا دورہ کیا ہے، جس سے باہمی رشتے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو فائدہ مند تعاون کو فروغ دینا چاہیے، اپ گریڈڈ سی پیک ٹو کو تیزی سے مکمل کرنا چاہیے، صنعت، زراعت، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانا چاہیے اور تعلیم، ثقافت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تبادلے وسیع کرنے چاہئیں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ پہنچے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا نام لیے بغیر چینی قونصل جنرل نے کہا کہ علاقائی تنازعات میں پاکستان منفرد ثالثی کررہا ہے اور وہ اس پر پاکستان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
ملکی سفارتکاری کا ذکر کرتے ہوئے فینگ دیہنگ نے کہا کہ اس ہنگامہ خیز دنیا میں چین قوتِ برائے امن و استحکام اور ترقی کے طور پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کررہا ہے۔ بیجنگ مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور دیرپا سکیورٹی کی وکالت کرتا ہے اور کشیدگی کا سامنا کرنے والے خطوں میں سیاسی سمجھوتے کو فروغ دیتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے صدر شی کی چار نکاتی تجویز کا حوالہ بھی دیا۔
ماضی کا ذکر کرتے ہوئے فینگ دیہنگ نے کہا کہ چین نے ایک ایسے غریب اور پسماندہ ملک سے، جسے ہر شعبے میں تعمیر نو کی ضرورت تھی، تاریخی پیشرفت کے ذریعے خود کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں تبدیل کیا ہے اور کئی برس سے چین دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرر اور ٹریڈر ہے۔
فینگ دیہنگ نے کہا کہ چین نے انقلابی اقدامات کے ذریعے انتہائی غربت کا خاتمہ کیا، دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی، سماجی تحفظ اور ہیلتھ کیئر نظام قائم کیا اور ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچائے۔ یہی وجہ ہے کہ خوبصورت چین کی عظیم تصویر بتدریج ابھر رہی ہے۔
سن 2026 کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قائم مقام قونصل جنرل نے کہا کہ یہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ کا بھی سال ہے اور ملک کے پندرہویں پنج سالہ منصوبے پر عمل کا پہلا سال بھی ہے۔
قونصل جنرل نے بتایا کہ اس سال چین کا جی ڈی پی 4.7 فیصد بڑھ چکا ہے، جو چین کو مسلسل صف اول کی معیشتوں میں کھڑا کرتا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس فروغ پارہی ہے، گرین انرجی کی طرف تیزی سے منتقلی جاری ہے اور چین اس وقت 160 سے زائد ملکوں کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون سے دنیا کے تین چوتھائی ممالک کو ثمرات ملے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین نے سائنسی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جدت کے مثبت نتائج حاصل کیے ہیں اور اس کی بدولت کئی شعبوں، بشمول مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، انسانوں کے خلا میں سفر اور توانائی کے نئے شعبوں میں دنیا بھر میں قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔ انٹیگریٹڈ سرکٹس ہوں یا ادویات کے شعبوں میں تحقیق و ترقی، راکٹس ہوں یا ہیومنائیڈ روبوٹس، چین کا اختراعی عمل جاری ہے۔
تقریر کے اختتام پر قائم مقام چینی قونصل جنرل نے کہا کہ دنیا کو پیچیدہ نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں، تاہم امن، ترقی اور تعاون کا رجحان روکا نہیں جاسکتا۔ ساتھ ہی کثیرقطبی نظام اور اقتصادی عالمگیریت ناقابل تبدیل عمل ہے۔ اس لیے ماضی کی کامیابیوں کو بنیاد بناتے ہوئے دونوں ملکوں کو چین پاکستان شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہیے۔