دی ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے بھارت کو ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام محدود کرنے اور پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا حکم دے دیا۔
دی ہیگ میں قائم پرمیننٹ کورٹ آف آربیٹریشن (ثالثی عدالت) نے پیر کے روز اپنے اہم فیصلے میں کہا ہے کہ بھارت کو کشمیر کے علاقے میں ایک ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر کام محدود کرنا ہوگا اور پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی کمیٹی کا استنبول میں پہلا اجلاس، تینوں ممالک کی عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت
ثالثی عدالت نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہے، کیونکہ بھارت کے پاس معاہدے کو ختم یا معطل کرنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔
عدالت نے مزید کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ ایک غیر جانب دار ماہر جولائی 2027 تک یہ فیصلہ کرے گا کہ ہمالیائی خطے میں پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں۔
حکومت پاکستان کا ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم
ثالثی عدالت کے فیصلے پر حکومت پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے میں عبوری اقدامات جاری کیے ہیں، جبکہ عالمی ثالثی عدالت نے ابھی تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا۔ اعلامیے کے مطابق عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ متفقہ ہے۔
حکومت پاکستان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ فیصلے کے مطابق بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی اجازت نہیں اور عالمی قوانین کے مطابق بھی بھارت یہ معاہدہ معطل نہیں کرسکتا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے آپریشنز معطل ہوئے ہیں، جبکہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے۔
حکومت پاکستان نے کہا کہ معاہدے کے مطابق پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔