ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں پر سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کا یہ اقدام محض ایک ملک کے خلاف مسلسل غیر قانونی اقتصادی جنگ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن اس اقدام کے ذریعے اقوام متحدہ کے ہر آزاد رکن ملک پر ماورائے علاقائی خودمختاری مسلط کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی ریاست قانونی طور پر غیر ملکی بینکوں، کاروباری اداروں یا ہوائی اڈوں کو کسی تیسرے ملک کے ساتھ قانونی تجارت ترک کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بینک، کاروباری ادارے اور ہوائی اڈے صرف اپنے ملکی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں، اور ایسی ثانوی پابندیوں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل ریاستوں کی خودمختار مساوات کے اصول کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ کسی خودمختار ریاست کو اپنی قانونی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی دباؤ ڈالنا بین الاقوامی سطح پر غلط اقدام ہے۔ ایسے اقدامات ریاستوں کی خودمختاری کو ختم کر کے دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی نظام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔