ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ میجر جنرل محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اقتصادی جنگ مسلط کی تو جو ممالک امریکا سے راستے الگ نہیں کریں گے، ایران انہیں اپنا دشمن سمجھے گا۔
میجر جنرل رضائی نے کہا کہ اقتصادی جنگ میں شامل ہونے والے ممالک سے پہلے مذاکرات کریں گے اور انہیں غیر جانب دار رہنے کا کہیں گے۔ امریکا کے ساتھ راستے الگ نہ کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے اقتصادی محاصرہ کیا تو خلیج فارس سے ایک قطرہ تیل بھی باہر نہیں جانے دیں گے۔ خلیجی ممالک اگر امریکا کے ساتھ مل کر اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے تو تیل کی برآمد بند کر دی جائے گی۔
رضائی نے کہا کہ فی الحال آبنائے ہرمز بند ہے اور دوسرے راستوں سے تیل کی برآمد سے ہمارا کوئی سروکار نہیں، لیکن اقتصادی محاصرے کی صورت میں خلیج فارس سے تیل کی برآمد کو بھی نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ امریکی راستے پر نہ چلیں کیونکہ امریکا انہیں تنہا چھوڑ دے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی علاقے میں کوئی کارروائی کی گئی تو حملہ کریں گے۔ انقلاب مخالف عناصر سے میٹنگ کی گئی تو اسے بھی نشانہ بنائیں گے۔ کہا کہ اگر ٹرمپ حملہ کرنا چاہتا ہے تو ہم زلزلے کے جھٹکوں کی طرح مقابلہ کریں گے۔
رضائی کے مطابق ایران نہیں امریکا جنگ چاہتا ہے۔ ہم جنگ چاہتے تو امریکا کے ساتھ 3 بار مذاکرات اور جنگ بندی قبول نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب نے تجربہ کار کمانڈروں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا ہے اور گزشتہ ایک سال کے جنگی تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔ اگلی جنگ گزشتہ جنگ سے بالکل مختلف ہوگی۔
انہوں نے اسرائیل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تاریخ ہزاروں انسانوں کے قتل سے بھری ہے۔ غزہ، لبنان اور شام پر حملے اس کی تازہ مثالیں ہیں۔