امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد ایران جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سمیت اہم معاملات پر مذاکرات کے لیے پہلے سے زیادہ آمادہ نظر آ رہا ہے۔
ایک انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی دفاعی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا، جس سے خطے کی صورتحال تبدیل ہوئی ہے اور تہران مذاکرات کے لیے زیادہ تیار دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی بحریہ، فضائیہ، میزائل دفاعی نظام، میزائل لانچرز اور ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرون موجود ہیں اور وہ حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان کے مطابق ایران اپنی سابقہ دفاعی پوزیشن سے محروم ہو چکا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہی صورتحال ایران کو جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر مذاکرات کی جانب راغب کر رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا اب تہران سے کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی پوزیشن سے بات کر رہا ہے، جس سے مذاکرات کے ماحول میں تبدیلی آئی ہے۔