Gas Leakage Web ad 1

امریکا: طاقت کے ایوانوں میں خاموش مگر خطرناک بحران سر اٹھانے لگا

0

واشنگٹن: امریکی دارالحکومت میں دفاعی معاملات سے متعلق ایک اہم تنازع سامنے آ گیا ہے، جہاں امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس سے میزائلوں کے ذخائر میں کمی کی اصل صورتحال چھپا رہا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اندرونی ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح پر اسلحے کی دستیابی سے متعلق مکمل حقائق سامنے نہیں لائے جا رہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ امریکا کے پاس اتنا اسلحہ موجود نہیں کہ وہ طویل عرصے تک محفوظ انداز میں جنگ جاری رکھ سکے، جبکہ ان کے بقول وائٹ ہاؤس بھی اس صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔
فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کا بل منظور
برطانوی اخبار ٹیلی گراف اور امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت ردعمل دینے کے لیے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم انتظامیہ کے اندر یہ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ پینٹاگون انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کو چھپا رہا ہے، حالانکہ انہیں ممکنہ جنگی کارروائیوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بعض حلقوں کے مطابق وائٹ ہاؤس بھی اس کمی کی اصل شدت جاننے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا، جبکہ خاموشی کی یہی پالیسی امریکی وزیر دفاع کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی مارچ میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی جنگ کے ابتدائی 16 دنوں میں 11 ہزار سے زائد ہتھیار استعمال کر چکے تھے، جبکہ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ اہم جنگی اسلحہ ایک ماہ کے اندر خطرناک حد تک کم ہو سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے امریکا کو جنگی حالت میں قرار دیتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ تہران کے خلاف کارروائیاں پہلے سے زیادہ شدت اور وسیع پیمانے پر دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق برطانیہ اور جرمنی میں قائم امریکی اڈوں سے ایف-35 اور ایف-16 لڑاکا طیارے مشرق وسطیٰ روانہ کیے گئے ہیں، جبکہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ کارروائیوں کی حمایت کی جا سکے۔

ابتدائی مرحلے میں امریکی حملے ساحلی اہداف تک محدود تھے، تاہم گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کارروائیوں کا دائرہ ایران کے اندرونی علاقوں تک وسیع ہو گیا ہے۔

ایک ذریعے کے مطابق پینٹاگون میں یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانے کے لیے فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانا ضروری ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک مکمل جنگ کی صورتحال میں ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا امریکا اتنے بڑے پیمانے کی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے یا نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر میزائلوں کے ذخائر میں کمی سے متعلق دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے امریکا کی جنگ کو وسعت دینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، امریکی فوجیوں کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور ممکنہ عسکری اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت بھی محدود ہو سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق آپریشن "ایپک فیوری” کے بعد ٹوماہاک اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹوماہاک میزائلوں کے ذخائر کو مکمل طور پر بحال ہونے میں 2031 تک جبکہ تھاڈ میزائلوں کے ذخائر کو 2029 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

ایک اور ذریعے نے دعویٰ کیا کہ جب وزیر دفاع صدر یا کانگریس کو بریفنگ دیتے ہیں تو انہیں ہمیشہ مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں کیونکہ ان کے قریبی معاونین خود کو تنقید سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا وسیع جنگ کی تیاری کر رہا ہے، لیکن دفاعی میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی کمی اس راستے میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ان کے بقول امریکا کے پاس اس وقت اتنا اسلحہ موجود نہیں کہ وہ محفوظ انداز میں طویل فوجی کارروائیاں جاری رکھ سکے، اور ان کے خیال میں وائٹ ہاؤس اس صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.