واشنگٹن میں امریکا کے ڈیموکریٹک رکن کانگریس ایڈورڈ کیس نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کے 39 طیارے تباہ ہوئے۔
سینیٹ کمیٹی کی خصوصی سماعت کے دوران ایڈورڈ کیس نے پینٹاگون کے چیف فنانشل آفیسر جے ہرسٹ سے متعدد سوالات کیے، تاہم ایران جنگ میں امریکا کو ہونے والے نقصانات سے متعلق سوالات پر جے ہرسٹ کئی معاملات میں واضح جواب دینے سے گریز کرتے رہے۔
پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول ہوگئے
کانگریس مین ایڈورڈ کیس نے لڑاکا طیاروں کی تباہی سے متعلق امریکی ویب سائٹ “دی وار زون” کا حوالہ دیا۔ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف 39 روز تک جاری رہنے والی جنگ میں امریکی فضائیہ نے 13 ہزار پروازیں کیں، لیکن اس دوران امریکا کے 39 طیارے تباہ ہوئے جبکہ مزید 10 طیاروں کو مختلف نوعیت کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ تباہ ہونے والے طیاروں کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق 24 یو ایس اے ایف ایم کیو نائن ریپر ڈرونز تباہ ہوئے، جبکہ 5 لڑاکا طیارے بھی فضا میں تباہ ہوئے جن میں 4 ایف 15 ای اسٹرائیک ایگلز اور ایک اے 10 وارتھوگ شامل تھا۔
ویب سائٹ کے مطابق ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف 35 اے طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا، جو ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ کی تباہی کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ قرار دیا جارہا ہے، تاہم اس کا پائلٹ بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ 3 ایف 15 ای طیارے کویت کی فضائی حدود میں تباہ ہوئے، جبکہ قیمتی ای تھری جی سینٹری طیارے کی تباہی کو امریکا کے لیے بڑا نقصان قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بعض فوجی اثاثوں کو ایرانی حدود میں اس خدشے کے تحت تباہ کیا گیا کہ کہیں ایران ان پر قبضہ نہ کرلے۔