وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے لیاقت شہید کے لیے ستارۂ شجاعت کی منظوری دے دی ہے۔
یاد رہے کہ لیاقت شہید نے اپنی جان قربان کر کے بڑے جانی نقصان کو ٹال دیا تھا، جبکہ ان کی جرات، فرض شناسی اور قربانی کو پوری قوم کے لیے ایک روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
محمود اچکزئی، مولانا فضل الرحمان کی ملکی صورتحال، آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت
وزیراعظم پاکستان کی سفارش اور صدر پاکستان کی منظوری کو قومی ہیرو کی عظیم قربانی کا اعتراف قرار دیا گیا ہے۔
ستارۂ شجاعت پاکستان کا دوسرا بڑا سول اعزاز برائے بہادری ہے۔ لیاقت شہید نے خودکش حملہ آور کے ناپاک عزائم کے سامنے ڈٹ کر بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا، اور ان کی قربانی کو دہشت گردی کے خلاف قوم کے غیر متزلزل عزم کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب شہری لیاقت شہید کے اہل خانہ ستارۂ شجاعت وصول کرنے کے لیے اسلام آباد روانہ ہوگئے ہیں۔
شہید کے اہل خانہ میں ان کی والدہ، صاحبزادے اور بھائی شامل ہیں جو صدر پاکستان سے یہ اعزاز وصول کریں گے۔ اہل خانہ کو مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ اسلام آباد روانہ کیا گیا، جبکہ اے سی جنڈ بھی ان کے ہمراہ روانہ ہوئے۔
اہل خانہ کی حفاظت اور سہولت کے لیے ایلیٹ فورس کا دستہ بھی ان کے ساتھ ہے۔
وزیراعظم کی سفارش پر منظور ہونے والا ستارۂ شجاعت آج شام شہری لیاقت شہید کے اہل خانہ کو دیا جائے گا۔