امریکی میڈیا کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کے قافلے کے گزرنے کے کچھ ہی دیر بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، خفیہ اہلکاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ مسلح شخص کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جبکہ اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والا ایک ملزم ہلاک ہو گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واشنگٹن یادگار کے قریب ایک شخص کو گولی ماری، واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کو کچھ وقت کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت رکھا گیا۔
پی آئی اےکو نئے مالکان کے حوالے کرنےکی تاریخ سامنے آگئی
حکام کے مطابق یہ واقعہ نائب صدر کے قافلے کے علاقے سے گزرنے کے فوراً بعد پیش آیا، جس میں ایک مسلح شخص اور سیکرٹ سروس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
امریکی سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن کے مطابق یہ واقعہ نائب صدر جے ڈی وینس کے قافلے کے گزرنے کے کچھ ہی دیر بعد پیش آیا اور بظاہر نائب صدر اس واقعے کا ہدف نہیں تھے۔ انہوں نے اس واقعے کو حالیہ دنوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملنے والی دھمکیوں سے جوڑنے سے بھی گریز کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس بارے میں قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی کہ یہ حملہ صدر کے خلاف تھا یا نہیں، تاہم تحقیقات کے بعد حقیقت سامنے آ جائے گی۔
میتھیو کوئن کے مطابق سیکرٹ سروس اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص کی نشاندہی کی جو بظاہر مسلح تھا، اہلکاروں کے قریب آنے پر وہ پیدل فرار ہو گیا، تاہم بعد ازاں اس نے ہتھیار نکال کر فائرنگ شروع کر دی، جس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی، جبکہ ایک کم عمر راہگیر بھی معمولی زخمی ہوا۔