Gas Leakage Web ad 1

ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کیوں کی؟ اسلام آباد مذاکرات اور وائٹ ہاؤس کی اندرونی کہانی

0

واشنگٹن میں منگل کی سہ پہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایک انتہائی اہم اجلاس کیا جس کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ ایران کے معاملے میں اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔ ایک جانب جنگ بندی کی آخری مہلت ختم ہونے کے قریب تھی، جبکہ دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ اینڈریوز ایئر بیس پر تیار کھڑا تھا تاکہ وہ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے پاکستان روانہ ہو سکیں۔

Gas Leakage Web ad 2

آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے پاک بحریہ کو کروز میزائل کے کامیاب تجربے پر مبارکباد

تاہم امریکی انتظامیہ کو اس دوران ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا تھا، اور وہ ایران کی جانب سے مکمل خاموشی تھی۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے معاملے سے واقف تین حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے چند روز قبل ایران کو معاہدے کے کچھ بنیادی نکات بھیجے تھے جن پر مذاکرات سے پہلے اتفاق ضروری تھا، لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود تہران کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس کے باعث یہ سوال پیدا ہوا کہ جے ڈی وینس کا پاکستان جانا کس حد تک مؤثر ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں جب صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی تو اس وقت بھی ایران کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

اسی دوران پاکستان کے ثالثوں نے منگل کو ایک طرف ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوششیں تیز کیں اور دوسری طرف صدر ٹرمپ کو جنگ بندی میں توسیع پر قائل کیا۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی حکام نے پاکستان کے مرکزی ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ جے ڈی وینس کی روانگی سے قبل ایرانی فریق سے کسی قسم کا ردعمل حاصل کریں۔

سی این این کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس خاموشی کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندر اختلافات ہیں، اور پاکستانی ثالثوں کی رپورٹس بھی اسی امکان کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام کے بیانات سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں، ہارنے والا فریق شرائط نہیں منوا سکتا، اور ناکہ بندی کا تسلسل بمباری سے مختلف نہیں، جس کا جواب صرف فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔

سی این این نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام کو یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ ایران کے اندر اس بات پر اتفاق نہیں کہ یورینیم کی افزودگی اور ذخائر کے حوالے سے مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں، اور یہی امن مذاکرات کا سب سے بڑا تنازع ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ آیا ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے ماتحتوں کو واضح ہدایات دے رہے ہیں یا فیصلے اب بھی غیر واضح سمت میں کیے جا رہے ہیں۔

ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے اس میں توسیع کا فیصلہ کیا، تاہم اس بار انہوں نے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ اب بھی اس تنازع کا سفارتی حل چاہتے ہیں اور ایک غیر مقبول جنگ سے بچنا چاہتے ہیں، جس کے بارے میں وہ پہلے بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا اسے جیت چکا ہے۔

تاہم مذاکرات میں تعطل ان مشکلات کو ظاہر کرتا ہے جو ٹرمپ کو اپنی شرائط منوانے میں درپیش ہیں۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات سے پہلے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ یہ راستہ کسی حتمی معاہدے سے پہلے نہیں کھولا جائے گا۔

انہوں نے ’سی این بی سی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ جب تک مکمل معاہدہ نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔

آخر میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے کوئی تجویز سامنے نہیں آتی اور بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی۔

ان کے مشیروں نے انہیں نجی طور پر خبردار کیا ہے کہ دباؤ میں کمی ایران کو وقت دے سکتی ہے کہ وہ اپنے میزائل سسٹمز دوبارہ فعال کر لے۔

دونوں ممالک کے درمیان یورینیم کی افزودگی، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر بنیادی نکات پر اب بھی کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔

ٹرمپ ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو ان کے مطابق اوباما دور کے ایٹمی معاہدے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو، اور وہ اسے اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے بقول ایران کے پاس اب زیادہ راستے باقی نہیں رہے، تاہم اس پورے معاملے میں اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ آیا ایران اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کوئی ٹھوس تجویز پیش کرتا ہے یا نہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.