Gas Leakage Web ad 1

بلوچستان میں اسپورٹس کمپلکس کی تعمیر کیلیے 1 ہزار کنال مفت زمین دینے کا اعلان

0

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے گراس روٹ لیول سے فٹبال کا ٹیلنٹ سامنے لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن صوبوں کے ساتھ رابطہ کاری بہتر بنائے، جبکہ اگلے اجلاس میں فٹبال فیڈریشن کے صدر محسن گیلانی کو خود شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔ بلوچستان سے رکن اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے اعلان کیا کہ وہ بلوچستان میں اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 100 کنال سے ایک ہزار کنال تک مفت زمین دینے کو تیار ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس شیخ آفتاب احمد کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ بلوچستان کے سیکریٹری اسپورٹس کی کمیٹی میں عدم شرکت پر مہرین رزاق بھٹو نے سوال اٹھایا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ زوم کے ذریعے اجلاس میں موجود ہیں۔
سینیٹ کمیٹی کا سانحہ پمز کی انکوائری کرنیوالی کمیٹی کو بلا کر سننے کا فیصلہ
اس موقع پر پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر محسن گیلانی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نومیڈ گیمز کی وجہ سے بشکیک میں موجود ہوں، آج یہاں افتتاحی تقریب ہے۔ صرف چار سے پانچ فیڈریشنز کو یہاں مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سال تقریباً 400 ینگ ٹرینرز تیار کیے ہیں، جبکہ انڈر 17 کی ہماری ٹیم نے پہلی بار 0-11 سے میچ جیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کلبز کی ڈویلپمنٹ پر بھی کام ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ویمن فٹبال ٹیم بہت اچھی ہے اور مزید بہتری کے لیے کام کیا جارہا ہے۔ ہم باہر سے کوچز لائے ہیں، ماضی میں بہت سے مسائل رہے ہیں۔ سعودی عرب، قطر اور باکو سے ہماری کوآرڈینیشن جاری ہے اور ہم نئے ٹیلنٹ پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے فٹبال کو فروغ دینا ہے، اگر ہم اپنے فٹبال کو پروموٹ نہیں کریں گے تو وہ یوتھ کہاں سے آئے گی جو آگے جاکر پاکستان کا نام روشن کرے گی۔ ہمیں گراس روٹ لیول پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

محسن گیلانی نے کہا کہ ہم تمام فیڈریشنز کے ساتھ رابطے میں ہیں اور پہلی بار ہم فیفا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹر ہوئے ہیں۔

مہرین بھٹو نے کہا کہ صوبوں کو بھی جواب دینا چاہیے کہ ان کی پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ساتھ کوئی کوآرڈینیشن ہے یا نہیں۔ سردار یعقوب خان ناصر نے کہا کہ میں تو جانتا ہی نہیں ہوں کہ بلوچستان سے ہمارا نمائندہ کون ہے، بلوچستان کا کوئی نمائندہ یہاں ہے بھی یا نہیں؟ اس پر بتایا گیا کہ وہ آن لائن موجود ہیں۔

مہرین بھٹو نے دریافت کیا کہ بلوچستان حکام سے پوچھا جائے کہ ان کی پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ساتھ کوئی کوآرڈینیشن ہے یا نہیں۔ حکام فٹبال فیڈریشن نے بتایا کہ پنجاب میں ہر تحصیل میں کم از کم فٹبال کے گراؤنڈ ضرور موجود ہیں۔

چیف آپریٹنگ آفیسر پاکستان فٹبال فیڈریشن محمد شاہد نے کہا کہ جو کوآرڈینیشن ہونی چاہیے تھی، ویسی نہیں ہے، ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ کوآرڈینیشن سے متعلق شکایات نہیں ہوں گی۔

مہرین بھٹو نے کہا کہ اگلی مرتبہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر خود اجلاس میں شرکت کریں، جس پر کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں صدر کی لازمی شرکت کی ہدایت کردی۔

مہرین بھٹو نے دریافت کیا کہ کیا پاکستان فٹبال فیڈریشن سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے فنڈنگ کے حوالے سے سوال کیا تو ڈی جی پی ایس بی یاسر حسین نے بتایا کہ یہ سیلف سفیشنٹ ہیں اور گزشتہ 10 سے 15 سال سے ہم سے کوئی گرانٹ یا فنڈنگ نہیں لیتے۔

بلوچستان سے رکن اسمبلی خوشحال خان نے اعلان کیا کہ بلوچستان میں اسپورٹس کمپلیکس بنانے کے لیے ہم 100 کنال سے ایک ہزار کنال تک مفت زمین دینے کو تیار ہیں۔

بعد ازاں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ڈی جی اسپورٹس نے اپنے اپنے علاقوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.