نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ کی خوراک میں صرف 10 سے 15 فیصد کیلوریز کم کرنے سے انسانی صحت پر نمایاں مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں وزن میں کمی، دل کی بہتر کارکردگی، بلڈ پریشر میں کمی اور شوگر کے کنٹرول میں بہتری شامل ہیں۔
یہ نتائج امریکی جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی CALERIE اسٹڈی سے سامنے آئے ہیں۔ اس تحقیق میں 143 صحت مند افراد نے دو سال تک اپنی روزانہ خوراک میں 25 فیصد کمی کرنے کی کوشش کی، تاہم اوسطاً صرف 12 فیصد کمی ممکن ہو سکی۔
اس کے باوجود شرکاء میں واضح بہتری دیکھی گئی، جن میں تقریباً 10 فیصد وزن میں کمی، بلڈ پریشر میں کمی، انسولین حساسیت میں بہتری اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی شامل تھی۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس لیے اہم ہیں کہ اتنی معمولی غذائی کمی بھی عملی طور پر ممکن ہے اور زیادہ تر افراد اسے اپنی روزمرہ زندگی میں اپنانے کے قابل ہیں۔ تحقیق کی مصنفہ ڈاکٹر سائی کرپا داس کے مطابق اگر کوئی شخص روزانہ 2000 کیلوریز لیتا ہے تو صرف 200 کیلوریز کم کرنے سے بھی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، جو ایک ڈونٹ یا ایک پیکٹ چپس کے برابر ہے۔
ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیلوریز میں کمی سے جسم توانائی کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرتا ہے اور ایسے نقصان دہ مالیکیولز کی پیداوار کم ہو جاتی ہے جو بڑھاپے، کینسر اور اعصابی بیماریوں سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔
تاہم احتیاط ضروری ہے کیونکہ یہ طریقہ ہر فرد کے لیے مناسب نہیں۔ 65 سال سے زائد عمر کے افراد، حاملہ خواتین، بچے اور کم وزن افراد کو کسی بھی غذائی تبدیلی سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔