اگر آپ ایسے افراد کے ساتھ وقت گزارتے ہیں جو مسلسل مسائل پیدا کرتے ہیں اور زندگی مشکل بناتے ہیں تو آپ کے لیے بری خبر ہے۔ ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق ایسے افراد آپ کو قبل از وقت بڑھاپے کا شکار بنا سکتے ہیں۔
جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جھگڑالو اور مسائل پیدا کرنے والے افراد سے تعلق صحت کو متاثر کرتا ہے اور بڑھاپے کی جانب سفر تیز ہو جاتا ہے۔
حساس طبیعت رکھنے والے افراد میں ڈپریشن اور ذہنی بیماریوں کا خطرہ زیادہ، نئی تحقیق میں انکشاف
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اکثر زندگی مشکل بنانے والے افراد سے رابطے میں رہنے سے تناؤ کی سطح بڑھتی ہے اور حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بڑھنے کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ حیاتیاتی عمر سے مراد جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر ہوتی ہے جو تاریخ پیدائش سے مختلف ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق میں 2 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ آپ کی زندگی میں ہر مشکل پیدا کرنے والے فرد کی موجودگی سے حیاتیاتی عمر میں 1.5 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر آپ کی زندگی میں ایک سے زیادہ ایسے افراد موجود ہیں تو حیاتیاتی عمر کی رفتار مزید بڑھ جائے گی۔
محققین نے بتایا کہ بظاہر 1.5 فیصد اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے مگر وقت کے ساتھ یہ صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید ایسا تناؤ بڑھنے کے باعث ہوتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کو ایسے افراد کا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔ اکثر زندگی مشکل بنانے والے افراد خاندان سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور ان سے دور رہنا مشکل ہوتا ہے۔ خاندان سے باہر دفتری ساتھی اور پڑوسیوں کو بھی لوگوں کی جانب سے زندگی مشکل بنانے والا قرار دیا جاتا ہے۔