انزائٹی (بے چینی) ایک ایسا عارضہ ہے جو موجودہ دور میں تیزی سے عام ہو رہا ہے اور اس کا علاج عموماً سائیکو تھراپی یا ادویات سے کیا جاتا ہے۔ انزائٹی کے شکار افراد کو دماغی اور جسمانی دونوں طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تاہم ایک نئی تحقیق کے مطابق اس عارضے سے بچنا بہت آسان ہے، بس اپنی نیند کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
امریکہ میں ہونے والی اس طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ جذباتی استحکام اور نیند کے انداز میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں نیند، عمر میں اضافے کے ساتھ دماغی حجم میں آنے والی کمی اور انزائٹی کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
اس تحقیق میں 61 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمر 65 سال سے زائد تھی اور ان تمام افراد کو روزمرہ کی بنیاد پر کسی حد تک انزائٹی کا سامنا تھا۔ محققین نے نیند کے دوران دماغی سرگرمیوں کا ڈیٹا اسکینز کے ذریعے حاصل کیا اور تجزیہ کیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ اچھی اور معیاری نیند انزائٹی سے تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ محققین کے مطابق ہر عمر میں اچھی نیند سے انزائٹی سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہر عمر میں اچھی نیند دماغی صحت کے لیے ضروری ہے۔ یہ تحقیق جرنل کمیونیکیشنز سائیکولوجی میں شائع ہوئی۔
انزائٹی کیا ہے؟
انزائٹی جسم کا تناؤ کے لیے قدرتی ردعمل ہے، یہ خوف یا فکر کی ایسی کیفیت ہے جو مختلف عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے۔ دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا، سانس چڑھنا، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات اس کی عام علامات ہیں۔ ہر فرد میں اس کے اظہار یا علامات مختلف ہو سکتی ہیں، جیسے ایک فرد کو شدید گھبراہٹ کا سامنا ہو سکتا ہے تو دوسرے کو تکلیف دہ خیالات یا ڈر کے دورے پڑ سکتے ہیں۔