Gas Leakage Web ad 1

مریض کی تشخیص بروقت ہوئی، وفات کی وجہ شدید انفیکشن اور ملٹی آرگن فیلئر تھی، کارڈیک ہسپتال گلگت

0

کارڈیک ہسپتال گلگت کی انتظامیہ نے حالیہ واقعے کے حوالے سے حقائق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ مریض کی تشخیص جدید طبی اصولوں اور مستند کلینیکل رہنما خطوط کے مطابق بروقت مکمل کی گئی تھی۔

Gas Leakage Web ad 2

اینجیوگرافی کے بعد مریض کو باقاعدہ ڈسچارج کارڈ جاری کیا گیا جس میں واضح طور پر کارڈیک سرجیکل کنسلٹیشن یعنی کسی مستند کارڈیک سرجری سینٹر سے دل کے آپریشن کے حوالے سے مشاورت کی ہدایت درج تھی۔ یہ واضح رہے کہ کارڈیک ہسپتال گلگت میں فی الحال اوپن ہارٹ سرجری کی سہولت دستیاب نہیں اور مریض کا مرض صرف اسٹنٹ لگانے سے مکمل طور پر حل ہونے والا نہیں تھا اس لیے مریض کو بروقت کسی مستند کارڈیک سرجن سے مشاورت کا مشورہ دیا گیا تھا۔ بعد ازاں مریض تین سے چار روز کے اندر فالو اپ کے لیے دوبارہ کارڈیک ہسپتال کی او پی ڈی حاضر ہوا جہاں تفصیلی طبی معائنے کے بعد ایک مرتبہ پھر کارڈیک سرجیکل کنسلٹیشن کی سفارش کی گئی اور متعلقہ او پی ڈی سلپ بھی مریض کے حوالے کر دی گئی۔ مریض کی اینجیوگرافی کا مکمل ریکارڈ کارڈیک ہسپتال کے کیتھ لیب سسٹم میں محفوظ ہے جبکہ کارڈیک ہسپتال اور پی ایچ کیو ہسپتال میں موجود تمام طبی ریکارڈ اور دستاویزی شواہد بھی دستیاب ہیں جو علاج کے ہر مرحلے کی مکمل تصدیق کرتے ہیں۔ انتظامیہ نے مزید واضح کیا کہ مریض کی قلبی بیماری کی تشخیص بروقت ہو چکی تھی اور اس کا حتمی علاج گلگت میں ممکن نہیں تھا۔ دستیاب طبی شواہد کے مطابق مریض راولپنڈی جانے کے بجائے استور چلا گیا جہاں اس نے تقریباً ایک ہفتہ قیام کیا۔ استور میں قیام کے دوران وہ شدید انفیکشن کا شکار ہوا اور جب اسے دوبارہ طبی امداد میسر آئی اس وقت تک انفیکشن خون میں پھیل چکا تھا جس کے نتیجے میں سیپٹک شاک اور ملٹی آرگن فیلئر کی پیچیدہ کیفیت پیدا ہوئی جو بالآخر اس کی وفات کا سبب بنی۔ طبی شواہد کے مطابق وفات کی بنیادی وجہ قلبی عارضہ نہیں بلکہ شدید انفیکشن سے پیدا ہونے والی جان لیوا پیچیدگیاں تھیں۔ کارڈیک ہسپتال گلگت کی انتظامیہ نے مزید بتایا کہ یکم جون سے اب تک الحمدللہ تقریباً پینتیس سے چالیس اینجیوگرافیز اور اینجیوپلاسٹیز کامیابی کے ساتھ انجام دی جا چکی ہیں اور اس پورے عرصے کے دوران کسی بھی مریض میں طریقہ کار سے متعلق کوئی پیچیدگی یا غیر معمولی طبی مسئلہ رپورٹ نہیں ہوا۔ مرحوم جناب سید شاہ بھی انہی مریضوں میں شامل تھے جن کی اینجیوگرافی کامیابی سے انجام دی گئی اور انہیں بھی کسی قسم کی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انتظامیہ کے مطابق جناب سید شاہ کا انتقال اینجیوگرافی کے تقریباً دس روز بعد ملٹی آرگن فیلئر کے باعث ہوا نہ کہ اینجیوگرافی کی کسی پیچیدگی کے نتیجے میں۔ کارڈیک ہسپتال گلگت اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ ادارے میں ہر مریض کی تشخیص علاج اور بعد از علاج نگرانی بین الاقوامی طبی معیارات سائنسی شواہد اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق انجام دی جاتی ہے۔ ادارہ شفافیت پیشہ ورانہ دیانت طبی اخلاقیات اور عوامی اعتماد کو اپنی بنیادی ذمہ داری تصور کرتا ہے اور معیاری محفوظ اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی خدمات پوری ذمہ داری احساس فرض شناسی اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انتظامیہ کسی بھی قسم کی کردار کشی اور اپنی غفلت یا کوتاہی کو ادارے پر تھوپنے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور عوام سے گزارش کرتی ہے کہ خدارا مکمل حقائق اور تحقیقات کے بغیر کسی فرد یا ادارے پر الزام تراشی سے گریز کیا جائے بصورت دیگر ادارہ اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ کارڈیک ہسپتال گلگت حکومت گلگت بلتستان سے درخواست کرتا ہے کہ اس واقعے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کسی مستند ادارے یا ماہرین پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور اگر کوئی ذمہ دار ہو تو اسے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے نیز بے بنیاد الزامات کے ذریعے اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا بھی قانون کے مطابق نوٹس لیا جائے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.