کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ وہ ایران پر بھرپور فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شدید حملوں سے ایران کے قدامت پسند عناصر بتدریج کمزور ہوں گے اور ان کا بنیادی مقصد ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے، کیونکہ ایرانی حکام مسلسل اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔
جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر عدالتی تعطیلات میں سب سے زیادہ مقدمات نمٹانے والے جج قرار
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی معائدے یا ڈیل کا اعتماد روز بروز کمزور ہو رہا ہے، کیونکہ ایرانی حکام جھوٹ بولتے ہیں اور اپنے کیے گئے وعدوں سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی بحالی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ امریکا صرف اور صرف فتح چاہتا ہے۔
امریکی صدر کا دعویٰ تھا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام تقریباً تباہ ہو چکے ہیں، تاہم امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو پورا مشرقِ وسطیٰ تباہ ہو چکا ہوتا، اسی لیے ایران پر ایسے سخت حملے کیے جائیں گے کہ ایک وقت آئے گا جب وہ خود بول اٹھیں گے کہ وہ اب مزید برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
بعد ازاں ایک امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا رخ امریکا کے حق میں جا رہا ہے اور ایران کو بھرپور نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے فتح کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں کی وجہ سے ایران کو بھاری نقصان کا سامنا ہے اور اس کے پاس اب پیچھے ہٹنے کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔