“اگر تم مجھے مارنا چاہتے ہو، تو میرے کردار کو مارو…”
مگر یاد رکھنا —
جب تم کسی کا کردار مارتے ہو،
تو وہ تمہاری ساکھ، تمہارا نام، اور تمہارے پیشے کی لاش اپنے کندھوں پر اٹھا کر
اس صحافت کا جنازہ نکال دیتا ہے۔
اور یہی کچھ آج کل ہو رہا ہے —
خبر کم، کردار کشی زیادہ۔
صحافت کم، ذاتی ایجنڈے زیادہ۔
⸻
مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے 2006 میں ریڈیو پاکستان کے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز چینل پر بطور نیوز اینکر کام شروع کیا۔
ہماری باوقار پروڈیوسر محترمہ سیما صدیقی نے پہلا جملہ یہ کہا:
“میاں، یہ مائیک تمہارے پاس بھی ہے، اور مسجد کے امام کے پاس بھی۔
فرق صرف اتنا ہے کہ وہ نصیحت کرتا ہے، تم نے خبر دینی ہے۔
نصیحت کرو گے، تو سامع اگلا چینل لگا دے گا۔”
یہ وہ زمانہ تھا جب خبر، خبر ہوا کرتی تھی —
اور صحافت، تربیت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
⸻
1997 میں میں نے رائے ونڈ کے قریب ایک برساتی نالے پر تجاوزات کی خبر دی۔
چند دنوں بعد کمشنر لاہور نے وہاں پل تعمیر کروا دیا۔
1999 میں روزنامہ خبریں لاہور میں ایک ایسا کالم لکھا
جس نے ایک بے گناہ کو جھوٹے قتل کیس سے بچا لیا۔
HRCP لاہور
نے اس کیس کو آگے بڑھایا، اور وہ شخص پھانسی کے پھندے سے بچ گیا۔
لیکن یاد رہے —
میں نے صرف خبر دی، فیصلہ نہیں دیا۔
میں رپورٹر تھا، جج نہیں۔
⸻
آج صورتحال بدل چکی ہے۔
اب ہر ہاتھ میں مائیک ہے، ہر زبان پر فتویٰ، اور ہر فون ایک اسٹوڈیو ہے۔
صحافت اب سیکھنے کا عمل نہیں رہی —
بلکہ ریٹنگ کا ہنر بن گئی ہے۔
کبھی دودھ بیچنے والا،
کبھی برتن دھونے والا،
کبھی ٹک ٹاک پر ناچنے والا،
سب “صحافی” بن گئے۔
اور ہر شخص نے قلم پکڑ لیا،
مگر کسی نے اسے سیکھنے، اٹھانے اور نبھانے کی زحمت نہ کی۔
⸻
یہ زرد لفافی صحافی وہی ہیں
جو موسمی کیڑوں کی طرح صرف اُس وقت نکلتے ہیں
جب بجٹ ہو، بحران ہو، یا بغاوت ہو۔
کبھی حکومت کے گیت گاتے ہیں،
کبھی اپوزیشن کی ڈگڈگی بجاتے ہیں۔
ایجنڈے کے مطابق چلتے ہیں،
لفافے کے حساب سے بولتے ہیں۔
ان کے لیے صحافت نہیں، موقع اہم ہوتا ہے۔
⸻
پھر آتی ہے یوٹیوب صحافت —
جہاں “بریکنگ نیوز” کا مطلب ہے:
کسی کی طلاق،
کسی کی پھانسی،
کسی پر غداری،
اور کسی کی کردار کشی۔
اور پس منظر میں موسیقی چل رہی ہوتی ہے۔
یہ خبر نہیں دیتے —
تھپڑ بکتے ہیں، اور کیمرہ آن رکھتے ہیں۔
⸻
پھر ریاست نے PECA ایکٹ کی صورت میں
ان زرد آوازوں اور زرد کالک ملی قلم کاری کو روکنے کا فیصلہ کیا۔
24 جون 2025 —
جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے
27 یوٹیوب چینلز کو بند کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے کہا:
“یہ صحافی نہیں، یہ ایکٹوسٹ ہیں۔
یہ پروپیگنڈا اسٹوڈیوز چلا رہے ہیں — with musical directions!”
⸻
یہ وہ وقت تھا جب ریاست نے کہا:
“خبر دو، فتوے نہیں۔
تنقید کرو، بلیک میلنگ نہیں۔
سچ لکھو، سازش نہیں۔”
⸻
اور پھر جنگل میں شکار کے بھی اصول ہوتے ہیں۔
جب لگڑ بگڑ اصول توڑتا ہے،
لاش نوچنے لگتا ہے،
یا اکیلا شکار ہڑپنے لگتا ہے —
تو پورا جنگل اُس پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
جنگل کا بھی قانون ہوتا ہے،
اور صحافت بھی ایک مہذب میدان ہے —
جہاں اگر تم لگڑ بگڑ بنو گے،
تو تمہیں شکاری نہیں، لاش سمجھا جائے گا۔
⸻
یہ وہ وقت ہے جب
حبیب جالب کی آواز سنائی دیتی ہے:
کہاں ہیں آج وہ صحافت کے پاسباں، جالب؟
ہر اک قلم ہے بکا ہوا، ہر اک ضمیر ہے سویا ہوا۔
⸻
اب سوال یہ نہیں کہ صحافت کہاں جا رہی ہے —
بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کہاں لے گئے ہیں؟
صحافت اب چوتھا ستون نہیں،
بلکہ کسی کا ہتھیار، کسی کا ڈھال، اور کسی کا سیاسی نوکر بن چکی ہے۔
⸻
یاد رکھیں :
جب صحافت زرد ہو جائے،
تو جمہوریت بہری، ریاست اندھی،
اور عوام خاموش ہو جاتی ہے۔
اور جو قوم سچ سننا چھوڑ دے،
وہ پھر سچ بولنے والوں کو
دفن کرنا شروع کر دیتی ہے۔