سپریم کورٹ کا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگلی سماعت تک شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے عمران خان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور انہیں سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت کو فراہم کیا گیا مواد صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے، تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل عدالت میں پیش کیا جائے اور ریمارکس دیے کہ ریکارڈ عدالت میں آنے کے بعد خفیہ نہیں رہے گا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ رپورٹ میں انجیوگرافی کی ضرورت کا ذکر ہے، کیا جیل میں انجیوگرافی ہوسکتی ہے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ انجیوگرافی باہر اسپتال میں ہوسکتی ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی نبض اور دل کی حالت نارمل نہیں اور ان کے وائیٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ملاقات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے تو کیا ریاست بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گی؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہورہا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ تین سال کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی 48 ملاقاتیں کرائی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے گزشتہ تین سال کے دوران بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب کرلیں جبکہ بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا۔
وکیل پی ٹی آئی عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی کم از کم ملاقاتیں تو کرائی جانی چاہئیں اور بہنوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
عزیر بھنڈاری نے عدالت سے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مکمل چیک اپ کرایا جائے۔ جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ باہر آکر میڈیا ٹاک نہیں ہوگی؟ وکیل نے کہا کہ وہ ڈاکٹر عظمیٰ کے وکیل ہیں اور ان کی ہدایات کے مطابق یقین دہانی کراتے ہیں کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر عاصم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔
عظمیٰ خان کے وکیل نے بانی پی ٹی آئی سے ڈاکٹر عظمیٰ اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کو ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر عظمیٰ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ وہ میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم یوسف معدے کے ڈاکٹر ہیں اور رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو معدے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ جج نے ریمارکس دیے کہ کسی درخواست گزار نے بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک نہ کرنے کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی گئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہے۔ اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر میڈیا ٹاک کرکے یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ یقین دہانی ان کی تھی، باقی لوگوں کا کیا قصور ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی گئی تو پھر سلمان اکرم راجہ کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کو یہ بات طے کرنی چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی حالت پر کوئی سیاست نہیں ہوگی اور ان کے علاج کو بھی سیاسی معاملہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی تمام میڈیکل رپورٹس طلب کرلیں
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پی ٹی آئی اور خاندان کو بیان حلفی دینا ہوگا کہ ملاقات کے بعد کوئی میڈیا ٹاک نہیں کی جائے گی۔ سماعت کے دوران عدالت نے عظمیٰ خان کو بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکیل موجود ہیں، آپ بات نہ کریں۔
عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بلڈ کلاٹ کیوں ہوا، اس کی وجہ سامنے آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 1979 میں جو کچھ ہوا، وہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کی مکمل تفصیل بھی طلب کرلی۔ عدالت نے کہا کہ بتایا جائے عمران خان کتنے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی ہیں، کتنے کیسز میں سزا یافتہ ہیں اور کتنے مقدمات میں سزا معطل ہوچکی ہے۔
سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل حکام سے بانی پی ٹی آئی سے گزشتہ تین سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا اور استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کیوں ہوئی۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل حکام کو بھی طلب کرلیا۔
سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اگلی سماعت تک شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی، جبکہ اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہونے کی بھی ہدایت کی۔