مہاجرین کی نشستیں بندوق کے زور پر ختم نہیں ہو سکتیں، بلاول بھٹوکا ایکشن کمیٹی سے معاملہ سیاسی انداز میں حل کرنے پر زور
بلاول بھٹو: ایکشن کمیٹی غیر مشروط سرنڈر کرے تو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جا سکتا ہے
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اگر غیر مشروط طور پر سرنڈر کرکے احتجاج ختم کر دے تو اسے کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں، اشیائے خورونوش کی قلت ہو رہی ہے اور موجودہ حالات پاکستان کی ساکھ اور کشمیر کاز دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں سے انتہا پسند عناصر کو الگ کریں اور قانون شکنی سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ غیر ضروری طور پر متنازع بنا دیا گیا ہے، حالانکہ یہ ایسا مسئلہ نہیں جسے حل نہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستیں طاقت کے زور پر ختم نہیں کی جا سکتیں اور اس معاملے کا حل مذاکرات، قانون سازی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ تقریباً اسی فیصد مکمل ہو چکا تھا اور پیپلز پارٹی مذاکرات سے انکاری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل پرامن سیاسی انداز میں تلاش کیا جا سکتا ہے اور تمام معاملات پاکستان کے آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر حل ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو ووٹ کا حق بھی ملنا چاہیے اور اس حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق دھمکیوں، دھرنوں اور دباؤ کی سیاست سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو رہا ہے، اس لیے تمام فریقین کو سیاسی اور جمہوری راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے مقبوضہ کشمیر جیسی صورتحال سے دوچار نہیں ہونے دینا چاہتے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے میں بھی مخصوص نشستوں کی طرح نتائج کے تناسب سے نمائندگی دی جائے تاکہ تنازع کا مستقل حل نکل سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ: ذرائع
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی قانون ہاتھ میں لے یا ریاستی اداروں کو نشانہ بنائے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، تاہم سیاسی مسائل کا حل بات چیت اور جمہوری عمل کے ذریعے نکالنا ضروری ہے۔
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کو پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچے۔ ان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وسطی ایشیا سے اضافی پانی پاکستان لانے کی تجویز دی ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کو بڑے ڈیمز کے منصوبے جلد مکمل کرنے کا مشورہ بھی دیا اور کہا کہ اگر پاکستان کا پانی روکا گیا تو پاکستان ہر سطح پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران بھارت اور اسرائیل کے بعض حلقے ایران پر حملوں پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کے مطابق بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور پاکستان کو اس صورتحال کا ادراک رکھتے ہوئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور بھارت و اسرائیل پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مزید مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں احتجاج اور انتشار پاکستان اور کشمیر کاز دونوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مودی حکومت کی سازشوں کے اثرات بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں، تاہم پاکستان ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بیرونی ایجنڈے کے نمائندہ نہیں بلکہ پاکستان کے مفادات کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھیں گے۔