اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنۃ الخوارج، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور فتنہ الہندوستان سمیت دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دے رہی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔ گمراہ کن بیانیے افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا نہیں سکتے۔ طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ پولیس کی کارکردگی پر برہم، سی پی او ملتان ریکارڈ سمیت طلب
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس میں بھی طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ طالبان حکومت ٹی ٹی پی، فتنۃ الخوارج، بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ فراہم کر رہی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان سرزمین سے منصوبہ بندی اور مالی معاونت کے ذریعے کیے جانے والے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ پاکستان اپنے شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کی جانب سے کی گئی کارروائیاں حقِ دفاع کے تحت اور آخری چارہ کار کے طور پر عمل میں لائی گئیں، جبکہ ان کارروائیوں میں افغانستان کے اندر صرف دہشت گردوں اور ان کے لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے خطرے کی نوعیت اور شدت کے تناسب سے جوابی کارروائی کی اور اس دوران احتیاط اور امتیاز کے اصولوں کی پابندی کی۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند بنائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔



