پاکستان ٹائیکوانڈو فیڈریشن کی جنرل کونسل اور ایگزیکٹو باڈی کے 24 ارکان نے مشترکہ قرارداد کے ذریعے فیڈریشن کے آئینی ڈھانچے، انتظامی اختیارات اور مالی معاملات سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔

قرارداد کے مطابق ارکان کا مؤقف ہے کہ چیئرمین کے اختیارات آئین اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت متعین حدود کے پابند ہیں۔ ان میں جنرل کونسل کا اجلاس طلب کرنے، فیڈریشن کے اکاؤنٹس اور مالی معاملات میں مداخلت کرنے، مالی اختیارات کے حوالے سے عہدیداران کے تقرر یا کردار پر اثرانداز ہونے اور فیڈریشن میں کسی عہدے پر فائز ہونے سے متعلق امور شامل ہیں۔
بلی جین کنگ کپ: ایران نے فائنل میں پاکستان کو شکست دے کر ٹائٹل جیت لیا، پاکستان رنرز اپ رہا
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ 24 ارکان نے متفقہ طور پر پاکستان ٹائیکوانڈو فیڈریشن کے صدر کرنل نبیل احمد رانا کو اختیار دیا ہے کہ وہ جنرل کونسل کا اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے اپنا آئینی کردار ادا کریں اور فیڈریشن کے معاملات کو متعلقہ آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھائیں۔
ارکان کے مطابق پاکستان ٹائیکوانڈو فیڈریشن کے صدر کرنل نبیل احمد رانا نے 31 اکتوبر 2026 کو پاکستان اسپورٹس بورڈ، اسلام آباد میں جنرل کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس پاکستان اسپورٹس بورڈ کی ہدایات اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، ایشین ٹائیکوانڈو یونین اور ورلڈ ٹائیکوانڈو کے رہنما اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلایا گیا ہے۔
قرارداد پر دستخط کرنے والے ارکان نے چیئرمین کی جانب سے طلب کردہ اجلاس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر مجاز اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان کے مؤقف کے مطابق، جب تک اس اجلاس کے انعقاد کی آئینی حیثیت اور قانونی اختیار کی وضاحت نہیں ہو جاتی، اسے فیڈریشن کی جنرل کونسل کا باقاعدہ اور مجاز اجلاس تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے۔
ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ٹائیکوانڈو فیڈریشن کے تمام انتظامی، مالی اور آئینی معاملات متعلقہ آئین، قواعد و ضوابط اور مجاز فورمز کے فیصلوں کے مطابق چلائے جائیں، تاکہ فیڈریشن میں شفافیت، جمہوری طرزِ حکمرانی، مالی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
قرارداد میں شامل ارکان نے واضح کیا کہ فیڈریشن کے معاملات میں کسی بھی قسم کے انتظامی یا مالی فیصلے آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے نہیں کیے جانے چاہئیں، جبکہ تمام عہدیداران کو اپنے اختیارات کا استعمال متعلقہ آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق کرنا چاہیے۔



