معاون خصوصی برائے اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا کہنا ہے کہ کسی پیش رفت کا امکان نہیں اب بات 27 ستمبر کے مارچ کے بعد ہوگی، پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غور کرنا چاہیے کہ مارچ کیوں ہو رہا ہے اور یہ نوبت کیوں آئی، عمران خان کو بنیادی حقوق نہیں دیے جا رہے، پارٹی اور ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ گولی چلائی جائے گی، مذاکرات ہوئے لیکن ہمیشہ حکومت کی جانب سے مسائل پیدا کیے گئے ہیں اور تین ہزار کنٹینر لگا کر پورا اسلام آباد بند کر دیا گیا ہے، اگر بات ہوئی تو بیرسٹر گوہر اور محسن نقوی کے درمیان ہوگی اور ناصر عباس سے بھی رابطے میں ہیں، ایک سوال پر کہا کہ مارچ میں خیبر پختونخوا حکومت کی مشینری بالکل استعمال نہیں کی جائے گی، سہیل آفریدی پارٹی فنڈ سے تیار کنٹینر پر سوار ہو کر آئیں گے جس پر آزادی یا شہادت لکھا ہوگا۔