واشنگٹن: نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے اعترافی بیانات مسترد کردیئے گئے۔
امریکی ملٹری جج نے خالد شیخ محمد کے اعترافی بیانات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آئی اہلکاروں کے سامنے دیے گئے اعترافات رضاکارانہ نہیں تھے۔
پاکستان ہاکی ٹیم نے جنوبی افریقا کو شکست دیکر ورلڈکپ میں 11ویں پوزیشن حاصل کرلی
جج کے مطابق سی آئی اے کے تشدد کے بعد حاصل کیے گئے اعترافی بیانات قابل قبول نہیں ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق اعترافی بیانات مسترد ہونے کے باعث 11 ستمبر کے حملوں کے مقدمے میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔
نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمے کی سماعت 5 جون 2028 کو شروع کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی ہے، جبکہ نائن الیون حملوں کے متاثرہ خاندانوں نے بھی تمام صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ خالد شیخ محمد پر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔
خالد شیخ محمد کو 2003 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ 20 سال سے کیوبا میں قائم امریکی بحریہ کے اڈے گوانتانامو بے کے قید خانے میں موجود ہیں۔