Gas Leakage Web ad 1

آنسوؤں میں ڈوبی صبح

عابد رشید

0

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں بھڑکنے والی آگ نے صرف ایک وارڈ نہیں جلایا،ہمارے اجتماعی ضمیر پر بھی ایک سوال چھوڑ دیا ہے جس کا جواب ماضی کی طرح شاید اس بار بھی نہیں ملے گا۔۔۔!
چودہ نومولود بچے، جنہوں نے ابھی دنیا کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہ تھا۔۔۔جو اگر ژندہ رہتے تو اپنی دنیا خود تخلیق کرتے۔۔۔۔۔ایک بچے کی موت پوری انسانیت کی موت ہوتی ہے۔۔ 14 نومولود زندگی کی ابتدائی سانسوں کے ساتھ موت کے دھوئیں میں گم ہوگئے۔
سرکاری حکام کے مطابق بدھ کی صبح پمز کے مادر و طفل صحت وارڈ میں آگ لگی اور 14 نومولود جان سے گئے۔۔۔ابتدائی اطلاعات میں آگ کے سبب کے حوالے سے مختلف باتیں سامنے آئی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بچے جانے کن کن کے خواب تھے۔۔۔۔۔کسی باپ نے شاید پہلی بار اپنے بیٹے کو سینے سے لگانے کا خواب دیکھا تھا۔ کسی ماں نے اس ننھے کو نو ماہ اپنے وجود میں پالنے کے بعد اس کی ایک مسکراہٹ کے لئے اس جنم دینے تک تمام تکلیفیں برداشت کی تھیں۔۔۔۔کسی گھر میں شاید بیٹی کی آمد پر چراغاں ہونا تھا۔ کسی خاندان نے برسوں کی دعاؤں کے بعد اولاد پائی ہوگی۔۔۔۔ مگر آج ان گھروں میں لوریاں نہیں، آہیں ہیں،خوشی کے فون نہیں،ماتم کی خبریں ہیں۔
سب سے زیادہ دل چیر دینے والی بات یہ ہے کہ یہ بچے ایک ہسپتال میں اپنی جانوں سے گئے ۔۔۔جہاں انسان جان بچانے کے لئے جاتاہےاور نرسری تو وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سب سے کمزور، سب سے بے بس اور سب سے زیادہ حفاظت کے محتاج بچے رکھے جاتے ہیں۔۔۔وہ خود دروازہ نہیں کھول سکتے، خطرہ محسوس کرکے بھاگ نہیں سکتے، مدد کے لئے پکار نہیں سکتے۔۔۔ ان کی پوری دنیا ایک انکیوبیٹر، آکسیجن کی نلکی اور ایک نرس یا ڈاکٹر کے محتاط ہاتھوں تک محدود ہوتی ہے۔
پمز کے اس سانحہ کو محض حادثہ قرار دے کر دامن چھڑا لیناظلم ہوگا
آگ صبح کے وقت نرسری میں لگی مگر سوال یہ ہے کہ ایک ایسے وارڈ میں جہاں نومولود آکسیجن اور طبی آلات پر زندہ رہتے ہیں۔۔۔کیا آگ سے بچاؤ کا نظام مکمل اور فعال تھا؟ کیا ہنگامی راستے واضح اور قابلِ استعمال تھے؟ کیا عملے کو ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کی باقاعدہ تربیت حاصل تھی؟ کیا فائر سیفٹی آلات ہر وقت قابلِ استعمال حالت میں تھے؟ ان سوالات کے ساتھ کئی سنگین اعتراضات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ سوال نظام سے ہیں۔
ہم ایک ایسے عجیب معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کسی عمارت میں حادثہ ہونے کے بعد چند دن تک شور مچتا ہے، کمیٹیاں بنتی ہیں، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، معطلیاں ہوتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آجاتی ہےمگر مرنے والوں کے گھر معمول پر نہیں آتے۔ ماں کے ہاتھ میں بچے کی انگلی دوبارہ نہیں آتی۔ باپ کے کندھے پر وہ ننھا سر دوبارہ نہیں رکھا جا سکتا۔
تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں لیکن صرف رپورٹ لکھنے کے لئے نہیں؛ سچ سامنے لانے کے لئے ۔۔۔۔اگر غفلت ہوئی تو ذمہ دار کون تھا؟ اگر حفاظتی انتظامات ناقص تھے تو انہیں درست کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر کوئی آلہ خراب تھا تو اس کی بروقت مرمت کیوں نہ ہوئی؟ اگر عملہ کم تھا تو اسے پورا کیوں نہ کیا گیا؟ اگر قوانین موجود تھے تو ان پر عمل کیوں نہ ہوا؟
ہسپتال صرف اینٹوں، مشینوں اور بستروں کا نام نہیں ہسپتال اعتماد کا نام ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو نرسری کے حوالے کرتی ہے تو وہ صرف اپنا بچہ نہیں،اپنا پورا وجود وہاں چھوڑ دیتی ہے۔ اس اعتماد کے ٹوٹنے کی قیمت کسی معاوضے سے ادا نہیں ہوسکتی۔
آج چودہ قبریں شاید ہم سے کوئی سوال نہیں کریں گی۔ مگر ان کے خاموش وجود ہماری تاریخ سے ضرور پوچھیں گے”ہم نے انہیں کیوں نہ بچایا”
حکومتیں بدلتی رہیں گی، افسران آتے جاتے رہیں گے،فائلیں بند ہوتی رہیں گی مگر ان چودہ بچوں کی موت ہماری اجتماعی ذمہ داری کا ایک سیاہ باب رہے گی۔
میں ان کے والدین سے ہم صرف تعزیت کر سکتا ہوں۔ ان کے آنسو نہیں پونچھ سکتا، ان کے بچے واپس نہیں لا سکتالیکن اگر اس سانحے کے بعد بھی ہم نے ہسپتالوں کی فائر سیفٹی، ہنگامی راستوں، طبی عملے کی تربیت اور حفاظتی نظام کو سنجیدگی سے نہ لیا تو پھر اگلا حادثہ صرف ایک خبر نہیں ہوگا؛ وہ ہماری خاموش بے حسی کا اگلا ثبوت ہوگا۔
میرے وطن کے چودہ ننھے چراغو! تم نے دنیا میں چند سانسیں لیں مگر تمہاری موت نے ہم سب سے ایک بہت بڑا سوال پوچھ لیا ہے۔ کاش ہم اس سوال کا جواب لفظوں سے نہیں،اپنے نظام کو بدل کر دے سکیں۔
کاش آج کسی ماں کی آغوش خالی ہونے کے بعد پورا معاشرہ اس کے ساتھ رو سکے۔۔۔۔ بعض اوقات آنسو صرف آنکھوں سے نہیں بہتے۔۔۔۔ قوموں کے ضمیر سے بھی ٹپکتے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.