Gas Leakage Web ad 1

حبیب جالب کی صاحبزادی کے ریڑھی لگانے کا معاملہ، وائرل ویڈیو کے باوجود پنجاب حکومت خاموش

0

لاہور: معروف مرحوم شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب معاشی مشکلات کے باعث گھر میں کھانا تیار کرکے ماڈل ٹاؤن بازار کے قریب ایک ریڑھی پر فروخت کرنے لگی تھیں، تاہم انہیں یہ کام کرنے سے روک دیا گیا۔

Gas Leakage Web ad 2

جیو ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے طاہرہ حبیب نے بتایا کہ پہلے میونسپل کارپوریشن کے کچھ افراد نے ان کے کام کو سراہا بھی تھا، لیکن کام شروع کرنے کے پہلے ہی دن انہیں ریڑھی لگانے سے روک دیا گیا۔
جو روٹ نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز کا ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا
طاہرہ حبیب کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے افراد نے کہا کہ آپ حبیب جالب کی بیٹی ہیں اور ریڑھی لگا کر مزدوری کررہی ہیں، ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ محنت میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے، میں نے تو اپنے والد سے بھی یہی سیکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر بعد چند دیگر افراد ان کی ریڑھی پر آئے اور وہاں موجود ان کے جاننے والے رکشہ ڈرائیور سے کہا کہ یہ سامان سمیٹو اور کہیں اور جاؤ۔

طاہرہ نے کہا کہ ان افراد نے خود کو میونسپل کارپوریشن کا عملہ ظاہر کیا تھا۔ شور ہونے پر جب وہ ریڑھی پر پہنچیں تو انہوں نے وجہ پوچھی، جس پر انہیں کہا گیا کہ اپنا سامان اٹھائیں اور یہ سب بند کریں۔

طاہرہ حبیب کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہزاروں روپے خرچ کرکے یہ سامان تیار کیا تھا، اس لیے وہ کس دل سے ریڑھی سمیٹ رہی تھیں، یہ وہی جانتی ہیں۔

طاہرہ نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور سوال اٹھایا کہ اگر نامور شاعر کی بیٹی ہونے کے باوجود ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا ہے تو ایک عام شہری کے ساتھ کیا کیا جاتا ہوگا؟ وہ بھی ایسے صوبے میں جس کا نظام خود ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

اس ویڈیو پر سندھ کے وزیر ثقافت نے بھی نوٹس لیتے ہوئے طاہرہ حبیب سے رابطہ کیا تھا۔ سید ذوالفقار علی شاہ نے طاہرہ حبیب کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان کا رابطہ گورنر پنجاب سے کروائیں گے۔

جیو ڈیجیٹل سے گفتگو میں طاہرہ نے بتایا کہ ابھی تک پنجاب حکومت کی جانب سے کسی نے بھی ان سے رابطہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ معروف شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب جالب نے ریڑھی لگانے کے لیے جون میں ڈی سی آفس لاہور میں درخواست جمع کرائی تھی۔

درخواست کے متن میں طاہرہ نے حکومت پنجاب سے ماڈل ریڑھی بازار منصوبے کے تحت ریڑھی لگانے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔

جیو ڈیجیٹل سے گفتگو میں طاہرہ حبیب نے بتایا کہ ان کی درخواست کس وجہ سے مسترد کی گئی، انہیں اس کی وجہ معلوم نہیں۔ ان کے مطابق انہیں کہا گیا کہ آپ ریڑھی حاصل کرنے کے حکومتی پیمانے پر پوری نہیں اترتیں۔ طاہرہ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کہ اگر کوئی وجہ تھی تو بحیثیت شہری انہیں اس وجہ سے آگاہ کرنا چاہیے تھا، لیکن اس کے باوجود انہیں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

طاہرہ نے تصدیق کی کہ ان سے بھتہ دے کر ریڑھی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے یہ درخواست پرویز رشید کو بھی بھیجی تھی تاکہ اس معاملے پر کارروائی ہوسکے۔

طاہرہ کے مطابق وہ 2014 سے نجی کیب سروس چلا رہی ہیں جس سے انہوں نے اپنی گاڑی کی اقساط ادا کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرتیں اور محنت مزدوری کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ درخواست مسترد کی جارہی ہے اور بھتے کا مطالبہ کیا جارہا ہے، یہ کون سا قانون ہے؟

طاہرہ نے کہا کہ وہ پنجاب حکومت سے درخواست نہیں بلکہ یہ تجویز کریں گی کہ حکومت اپنے پیمانے واضح اور نرم کرے تاکہ خواتین بھی اپنے روزگار کے ذرائع چلا سکیں۔

بعد ازاں سندھ کے صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت و نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور طاہرہ حبیب جالب سے رابطہ کیا اور طاہرہ حبیب جالب کو روزگار کے معاملے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

طاہرہ حبیب جالب نے صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ سے محکمہ بلدیہ پنجاب کے رویے کی شکایت کی، جس پر صوبائی وزیر نے متعلقہ وزیر سے بات کرکے معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے طاہرہ حبیب جالب سے ملاقات کرنے کی درخواست بھی کی۔

سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ حبیب جالب مرحوم کے خاندان کا خیال رکھا جائے گا اور پاکستان پیپلزپارٹی ان کے ساتھ ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.